صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1382 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,490

سوال (Question):

داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید قوم کا نائ اور مسلمان ہے لیکن وہ شخص مسلمان اور غیر مسلم کی داڑھیاں بناتا ہے. لہذا ایسی صورت میں زید کے گھر کھانا پینا درست ہے یا نہیں جو شریعت کا حکم ہو تحریر فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــ مسلمان نائی کے لیے داڑھی مونڈنے کی اجرت لینا حرام ہے. وجہ یہ ہے کہ داڑھی مونڈنا اور منڈانا حرام ہے اور حرام و ناجائز کام پر اجرت لینا بھی حرام و ناجائز ہے. در مختار باب الاجارہ الفاسدہ میں ہے ” ولا تصح الاجارۃ لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی ” (جلد ٦ صفحہ ٥٥) اور البحر الرائق میں ہے ” وان اعطاھا الاجر لا یحل لہ ویجب علیہ ردہ علی صاحبہ ” ١ھ. (جلد ٨ صفحہ ٢٠) یہ شخص اگر عین اسی مال حرام سے کھلائے تو نہ کھائیں، لیکن جب اس کا مال حلال وحرام دونوں طرح کا ہے اور دونوں باہم مخلوط ہوتا ہے تو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ خاص مال حرام سے ضیافت کا انتظام ہوا ہے. علاوہ ازیں اجرت میں روپے پیسے ملتے ہیں جو خود کھائے نہیں جاتے بلکہ ان سے کوئی چیز مطعومات مشروبات سے خریدی جاتی ہے جس پر عموماً عقد و نقد جمع نہیں ہوتے اس لیے اس کے یہاں کھانا مال حرام کھانا نہیں. تاہم علماء، حفاظ اور ائمہ وقراء کو اس کے یہاں کھانے سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ اس سے لوگوں کو عبرت حاصل ہو. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد نیاز احمد برکاتی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh