صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1750 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,215

سوال (Question):

درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

درآمد شدہ گوشت کا حکم | حلال لکھے ہوئے گوشت کا حکم

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے متعلق قطر اور سعودی میں پیک کی ہوئی مرغی جو دوسرے دیش سے آتی ہے مثلا برازیل انڈیا پاکستان اس پر لکھا ہوتا ہے مسلم کے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا ہے طریقہ شریعت اسلامیہ پر ،_یہی ہوتل اور دکان میں ملتی ہے تو کیا ہوٹل میں پکی ہوئی یا بغیر پکی مرغی اہنے روم میں بنا کر کھا سکتے ہیں ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔ از محمد مجیب 18ضلع سریا نیپال حال مقیم سعودی عرب ۔ الجوابـــــــــــــــــــــ گوشت حلال ہونے کے لیے پیکٹ پر اتنا لکھا ہونا ہرگز کافی نہیں کہ “مسلم کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا ہے طریقہ شریعت اسلامیہ پر” یا کچھ لوگ “ذبح علی طریق شرعی” لکھ دیتے ہیں۔ بلکہ گوشت وقتِ ذبح سے وقت خریداری یا کھانے کے وقت تک مسلمان کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ عام طور پر اشیاء میں اگرچہ اصل حکم اباحت یعنی جائز ہونا ہے۔ لیکن گوشت میں اصل حکم حرمت ہے جب تک کہ شرعی طریقہ پر ذبح نہ کر لیا جائے اور وقتِ ذبح سے کھانے کے وقت تک کسی مسلمان کی نگرانی اور تحویل میں نہ ہو۔ اب اگر کسی مسلمان کے گھر یا ہوٹل میں کھانے میں گوشت ہو تو چوں کہ نظر بحالِ مسلم یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ یہ گوشت شرعی طریقہ پر ذبح کیے گیے حلال جانور کا ہوگا اور اس میں کوئی وجہ حرمت نہیں ہوگی اس لیے اس کا کھانا جائز ہوتا ہے، لیکن جس جگہ کے بارے میں تحقیق اور معلوم ہو کہ یہاں گھروں اور ہوٹلوں میں باہر سے گوشت پیک شکل میں آتا ہے اور اس کے بھیجنے اور لانے والوں کو یہ لحاظ نہیں ہوتا کہ مسلمان کی دکان سے حلال جانور کا گوشت لایا جائے اور نہ ہی یہ التزام ہوتا ہے کہ وقت ذبح سے مسلمان کے خریدنے یا کھانے تک لگاتار مسلمان ہی کی نگرانی اور دیکھ ریکھ میں رہے۔ تو ایسے گوشت کا کھانا حلال نہ ہوگا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ہاں اگر وقت ذبح سے وقت خریداری تک وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے، بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو، اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا۔” واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢۴/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٢٦/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh