صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1223 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,993

سوال (Question):

دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دف بجانا کیسا ہے؟ کیا اسلام میں دف بجانے کی اجازت ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں دف بجانا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔ محمد سلمان فارسی دیوریا یو پی  الجواب بتوفیق الملک الوہاب صورت مسئولہ میں دف بجانا جائز ہے۔ اگر دف کے ساتھ جھانج نہ ہو تو دف بجانے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ ہے اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو اجازت نہیں، ١) پہلی شرط یہ ہے کہ ہیئت تطرب پر نہ بجایا جائے یعنی قواعد موسیقی کی رعایت نہ کی جائے، ٢) دوسری شرط یہ ہے کہ بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کے لئے دف بجانا مطلقا مکروہ ہے۔ ٣) تیسری شرط یہ ہے کہ بجانے والی عزت دار بیبیاں نہ ہوں اور جو بچیاں وغیرہ بجائیں وہ بھی غیر محل فتنہ میں بجائیں تو جائز ہے ۔ فتاوی مصطفویہ میں ہے۔ ہرگز نہ چاہیٔے ظاہر ہے کہ یہ سخت سوءادب ہے۔ اور اگر جھا نجھ بھی ہوں، یا اس طرح بجایا جائے کہ گت پیدا ہو فن کے قواعد پر جب تو حرام اشد حرام ہے۔ حرام در حرام ہے۔ (الفتاوی المصطفوئۃ ،ص،٤٤٨) فتاوی امجدیہ میں ہے۔ بغیر جھانجھ کا دف بجا نا بھی جائز ہے جب کہ قواعد موسیقی پر بجایا نہ جائے لاباس بالدف فی العرس یشتھر فی السراجیۃ ھذا اذا لم یکن لہ جلاجل و لایضرب علی ھیئۃ التطرب، دف کے علا وہ اور باجے حرام ہیں، (فتاوی امجدیہ کتاب النکاح ج،دوم،ص،١١) اور فتاوی رضویہ میں ہے۔ دف کہ بے جلاجل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں،بلکہ کنیزیں یا ایسی کم حئثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب و مندوب ہے ۔ “للامر بہ فی الحدیث والقیود مذکورۃ فی رد المحتار وغیرہ شرحناحا” حدیث میں مشروط دف کے بجانے کا حکم دیا گیا اور اسکی تمام قیود کو فتاوی شامی وغیرہ میں ذکر کر دیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسکی تشریح کر دی ہے ۔ (فتاوی رضویہ رضا فاؤنڈیشن نظامیہ لاہور،ج،٢١ ص،٦٤٢) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh