Fatwa #977
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,154
سوال (Question):
دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں بیوی کو طلاق دیا اور اسلام کو برا کہا تو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید جو کہ ایک سائنس ٹیچر ہے جس کی تقریبا چار یا پانچ سال سے دماغی حالت کبھی کبھی ٹھیک نہیں رہتی ہے ۔ وہ فی الحال رام منوہر لوہیا ہاسپٹل سے علاج کروا رہے ہیں . جب ان کا دماغی توازن خراب ہوتا ہے تو وہ ایسی حالت میں اسلام کےخلاف باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ مثلا یہ کہ ہم نماز کو نہیں مانتے ، قرآن کو نہیں مانتے ۔ اور بہت سی خلاف شرع باتیں کرتے ہیں اور انہوں نے ایسی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق ایک ساتھ دی ہے ۔ لہذا ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسا شخص مسلمان ہے کہ نہیں؟ اور اس کی بیوی پر طلاق پڑی کہ نہیں ؟ اور ایسے شخص سے مسلمانوں کا میل جول رکھنا کیسا ہے؟ ایسے شخص پر شریعت کا جو بھی حکم ہو واضح فرمائیں ۔ بینوا وتوجروا ۔ المستفتی محمد یونس مقام و پوسٹ مروٹیا بابو ضلع بستی ۲۳فروری ۲۰۲۰ء باسمه تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوھابـــــــ اگر یہ بیان واقعی ہے کہ زید دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں خلاف شرع باتیں کرتا ہے جیسا کہ صورت مسئولہ سے یہی ظاہر ہے تو زید ایسی حالت میں خلاف شرع باتیں کرنے سے کافر نہ ہو گا بلکہ مسلمان ہی رہے گا ۔ کیونکہ شریعت مطہرہ اس طرح کے لوگوں مثلا سونے والے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے ۔ اور نابالغ سے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائے ۔ اور دیوانہ سے جب تک کہ وہ صحیح العقل نہ ہو جائے ۔ کوئی مواخذہ نہیں فرماتی ہے ۔ مشکاۃ شریف میں ہے“رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتی یستیقظ و عن الصبی حتی یبلغ و عن المعتوہ حتى یعقل” (مشکوۃ ص۲۸۴) اور مراۃالمناجیح میں ہے “حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ،سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع العقل ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں” (ج ۵ ص ۱۱۷) اور زید نے دماغی توازن خراب ہونے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق بھی دی ہے طلاق واقع نہ ہوگی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے” لا یقع طلاق الصبی والمجنون والمدھوش ھکذا فی فتح القدیر و کذالک المعتوہ لا یقع طلاقه أیضا و ھذا اذا کان فی حالة العته “ (ج ۱ص ۳۵۳) اور مراۃ المناجیح میں ہے “لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی ۔ اسى لئے فقہا فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ یوں ہی سوتے میں اگر کوئی طلاق دے دے یا دیوانگی میں تو بھی طلاق نہیں ہوتی” ۔ (ج۵ ص ۱۱۷) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ زید ایسی حالت میں خلاف شرع بات کہنے سے کافر نہ ہوگا ۔ لیکن اگر زید نے ہوش و حواس کی درستگی میں الفاظ کفر بکے ہوں تو ضرور وہ کافر ہو جائے گا ۔ اگر حالت جنون میں طلاق نہ دی ہو تو ضرور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ۔ اور اس سے بیوی کا برتاؤ کرنا حرام ہوگا ۔ اگر مزید پاگل پن کا بہانہ کرے گا تو یہ بہانہ اس کو اللہ رب العزت کی سزا سے نہ بچا سکے گا ۔ لیکن جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ زید جنون کا بہانہ کر رہا ہے اس سے مسلمانوں کے میل جول کو منع نہیں کیا جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبہ محمدارشاد رضاعلیمی غفرلہ،المتخصص فی الفقه الاسلامى بدار العلوم العليميه ۱/رجب المرجب ۱۴۴۱ھ مطابقّ۲۶/فروری ۲۰۲۰ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9