صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1804 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,469

سوال (Question):

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دم بریدہ اور گلٹی والے جانور کی قربانی کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ بخیر ہیں حضور ایک بھینس ہے جسکی پونچھ کٹی ہوئی ہے پوری نہیں بلکہ جہاں سے بال اگا ہوا ہے ایک بکرا ہے جسکے اگلے پاؤں کے پاس گلٹی کی طرح ہے جو قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے دونوں کے قربانی کیسی ہے الجواب بعون الملک الوھاب ١ -ایسا جانور جس کی دم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں، اس سے کم کٹی ہے تو جائز ہے. ہدایہ میں ہے : ولا یجزیٔ مقطوعۃ الا ذن والذنب، اما الاذن فلقولہ علیہ السلام۔استشرفوا العین والا ذن ای اطلبواسلامتھما، واما الذنب فلا نہ‘عضوکامل مقصود فصار کالاذن۔(ہدایہ ص ۴۳۱ ج۴ کتاب الا ضحیۃ) اسی میں ہے : وما الذنب فلانہ عضو کامل مقصود فصارکالاذن۔(ص۴۳۱ج۴ ایضاً) بہار شریعت میں قربانی کے لیے نااہل جانوروں کو شمار کراتے ہوئے حضور صدرالشریعہ فرماتے ہیں : کان،دُم یاچَکّی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں ناک کٹی ہوئی ہو (بہارِ شریعت ج۳ص٣٤٣ ) واللہ اعلم بالصواب ٢ -ایسی چھوٹی گلٹی جس کی وجہ سے عرف میں جانور کو عیب دار نہ مانا جائے اس کی قربانی جائز ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے : یجوز العاجزة عن الولادة لکبر سنہا والتي بہا کيّ، والتی لاینزل لہا لبن من غیر علة. (الفتاوى الهندية زکریا قدیم ٥/ ٢٩٧) اسی میں ہے : کل عیب یزیل المنفعة علی الکمال أو الجمال علی الکمال یمنع الأضحیة وما لا یکون بہذہ الصفة لایمنع.(الفتاوى الهندية، کتاب الأضحیة، الباب الخامس، زکریا قدیم ٥/ ٢٩٩) بہار شریعت میں ہے : قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہوناچاہیے اور تھوڑا سا عیب ہوتو قربانی ہو جائےگی ،مگر مکروہ ہوگی ۔“ ( بھار شریعت٣/ ٣٤٠،مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ٢٦ ذوالقعدہ ١٤٤٣ / ٢٥ جون ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh