Fatwa #1537
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
دنیاوی تعلیم کے لیے زکوۃ لینا کیسا ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,616
سوال (Question):
دنیاوی تعلیم کے لیے زکوۃ لینا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دنیاوی تعلیم کے لیے زکوۃ لینا کیسا ہے؟
سوال : زید ایک مسجد کا امام ہے اور رہنے کے لیے مسجد کا ایک مکان اور ماہانہ ہدیہ بھی دیا جا رہا ہے بہار سے آکر بیوی بچوں کے ساتھ زندگی بسر کررہا ہے ۔ اپنے لڑکے کی پڑھائی کے لئے جو انجینئرنگ میں داخلہ لیا ہوا ہے زکوۃ کا پیسہ لینا جائز بتا رہا ہے صرف پڑھائی کیلئے جائز قرار دیا جا رہا ہے ۔ کیونکہ اپنے وطن میں زمین جائیداد رہنے سے اپنے خرچ کے لیے زکوۃ کا پیسہ جائز نہیں بلکہ اپنے لڑکے کو پڑھانے کے لئے جائز بتانا کہاں تک مناسب ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــ زکوۃ و صدقات واجبہ کے اصل مستحقین فقراء و مساکین ہیں. اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ” انما الصدقات للفقراء والمسکین” (پ 10 سورۃ المائدہ آیت 60) لہذا زید اگر فقیر ہے یعنی اس کے پاس کھانے اور بدن چھپانے کے لئے ذرائع ہیں مگر وہ مالک نصاب نہیں تو زکوۃ کا مستحق ہے اور وہ زکوٰۃ کے روپئے بچوں کی تعلیم اور دوسرے جائز کاموں میں خرچ کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے سوال کرنا اور لوگوں کو راغب کرنا ناجائز ہے ۔ اور زید کا یہ کہنا کہ ہمارے پاس زمین جائیداد ہے اس لیے ہم اپنے خرچ کے لیے زکوۃ کی رقم نہیں لے سکتے مگر بچے کی پڑھائی کے لئے لے سکتے ہیں یہ سراسر غلط ہے اگر وہ مالک نصاب ہے تو اسے کسی کام کے لئے زکوۃ کی رقم لینا جائز نہیں خواہ وہ بچے کی پڑھائی کے لئے ہی کیوں نہ ہو. تنویر الابصار میں باب مصرف زکات میں ہے ” فقیر وھو من لہ ادنی شئی ومسکین من لا شیئ لہ وعامل فیعطی بقدر عملہ ومکاتب ومدیون لا یملک نصابا فاضلا عن دینہ وفی سبیل اللہ وھو منقطع الغزاۃ” (ج 3 صفحہ 283) ہاں اگر زید کا بالغ لڑکا خود فقیر ہے اگرچہ زید مالک نصاب ہے تو اسے زکوۃ دینا جائز ہے البتہ اس کے لیے سوال حلال نہیں. فتاویٰ ہندیہ میں ہے” ولا یجوز دفعھا الی ولد الغنی الصغیر کذا فی التبیبن ولو کان کبیرا فقیرا جاز “ اور اگر زید کو یہ وہم ہوا ہے کہ اس کا لڑکا طالب علم ہے اس لئے وہ زکوۃ کا مستحق ہے تو یہ بھی صحیح نہیں کہ شریعت مطہرہ نے جس طالب علم کو زکوۃ کا مستحق قرار دیا ہے وہ دینی طالب علم ہے جو خدا کی اطاعت و محبت کے لئے علم دین کی تحصیل میں کوشاں ہو. رد المحتار میں ہے ” فالتفسیر بطالب العلم وجیہ خصوصاً وقد قال فی البدیع : فی سبیل اللہ جمیع القرب فیدخل کل من سعی فی طاعۃ اللہ وسبیل الخیرات اذا کان محتاجا” ١ھ. (ج 3 صفحہ 289) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9