Fatwa #37
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,204
سوال (Question):
دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم
صورت مسئولہ: ایک عورت نے احرام باندھنے کے وقت پرلبیک اللٰھم لبیک یعنی تلبیہ نہیں پڑھا۔اب اس نے عمرہ بھی کرلیا ہے۔ عرض یہ ہے کہ تلبیہ نہ پڑھنے پر کیا جرمانہ اداکرنا پڑے گا ۔ جواب شرعی دلائل کی روشنی میں عنایت فرماکر ممنون فرمائیے گا ۔احرام کے لیے نیت شرط ہے،اگر بغیرنیت لبیک کہا، احرام نہ ہوا ۔ یوں ہی تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک لبیک یا اس قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو۔ المستفتی:برطانیہ سے بذریعہ فون حکم شرعی:اگر اس عورت نے احرام کی نیت کرکے سبحان اللہ یاالحمدللہ یالاالہ الا اللہ یااللہ اکبریا اس طرح کا کوئی کلمہ جو ذکر الٰہی ہوسکے، پڑھ لیا جیسے اے اللہ ،پاک پروردگار،ارحم الراحمین وغیرہ تو اس کا احرام شروع ہوگیا اور اس کا عمرہ صحیح ہے ۔ اور اگر اردو عربی کسی زبان میں اس نے ذکر الٰہی نہ کیا تو اس کا احرام شروع نہ ہوا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس صورت میں اس کا عمرہ نہ ہوا۔ وہ گنہ گار ہوئی، توبہ کرے اور قریبی میقات پر جاکر عمرہ کاصحیح احرام باندھ کر آئے اور عمرہ کرے ۔ نیت احرام کے بعد ذکر الٰہی رکن ہے لہٰذااس کے بغیر عمرہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے بغیر تکبیر تحریمہ نماز پڑھنا۔فتاویٰ عالم گیر ی میں ہے:ولایصیر شارعابمجردالنیۃ مالم یات بالتلبیۃ اومایقوم مقامھامن الذکراھ(فتاویٰ عالم گیری) اور اگروہ عورت میقات نہ جا کر مکہ معظمہ سے ہی احرام باندھ کر عمرہ کرلے تودم واجب ہے کہ اس نے میقات کااحترام ترک کردیا۔عالم گیری میں ہے:فان احرم بالحج اوالعمرۃ من غیر ان یرجع الی المیقات فعلیہ دم لترک حق المیقات- واللہ تعالیٰ اعلم ۔حج کاایک اہم مسئلہ
صورت مسئولہ: اگر کوئی شخص وقوف مزدلفہ کرکے احرام کی حالت میں ابھی ہے اور وہ پہلے مکہ معظمہ پہنچ جائے اور طوافِ زیارت کرلے کیوں کہ طوافِ زیارت کا وقت شروع ہوگیاہے دس تاریخ کو،اور بعد میں اگر رمی ،قربانی اور حلق کرے تو کیا ایسا کرنا مناسب ہے،کیا اس کی وجہ سے کوئی دم آئے گا ؟ المستفتی : قاری محمدرضوان شاعر نعت ،سنی دعوت اسلامی حکم شرعی: دسویں ذی الحجہ کو صبح صادق سے طواف زیارت کا وقت شروع ہوجاتاہے اس لیے جس نے وقوف مزدلفہ کے بعد مکہ معظمہ جاکر طوافِ زیارت کرلیااس کا طواف صحیح ہے، فرض ادا ہوگیا ۔ہاں سنت یہ ہے کہ رمی و قربانی وحلق کے بعد طواف زیارت کرے۔ اس پر دم یا کفارہ نہیں۔ کچھ صدقہ کردے تو اچھا ہے ۔ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم ۔واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ : مفتی نظام الدین صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور ۔ محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے ؟
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9