صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1812 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دولوگ مل کر جانور ذبح کریں تو دونوں پر تسمیہ پڑھنا واجب ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,331

سوال (Question):

دولوگ مل کر جانور ذبح کریں تو دونوں پر تسمیہ پڑھنا واجب ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دولوگ مل کر جانور ذبح کریں تو دونوں پر تسمیہ پڑھنا واجب ہے

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ دو لوگ مل کر جانور ذبح کریں قصاب اور جس کے نام سے قربانی ہے تو ایسی صورت میں دونوں کو بسم ﷲ اللہ اکبر پڑھنا ضروری ہے یا صرف ایک کاپڑھنا کافی ہے اور یہ بھی بتائیے کہ اگر ایک شخص نہ پڑھے عمدا یاسہوا تو شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی: عبد اللہ قادری میرانی ممبئی انڈیا۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ میں دونوں پر تسمیہ پڑھنا واجب ہے کسی نے بھی عمدا ترک کیا تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا ہاں بھول کر چھوڑدیا تو حرج نہیں۔ فتاوی ھندیۃ میں ہے: “رَجُلٌ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَوَضَعَ صَاحِبُ الشَّاةِ يَدَهُ عَلَى السِّكِّينِ مَعَ يَدِ الْقَصَّابِ حَتَّى تَعَاوَنَا عَلَى الذَّبْحِ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ: يَجِبُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا التَّسْمِيَةُ حَتَّى لَوْ تَرَكَ أَحَدُهُمَا التَّسْمِيَةَ لَا يَجُوزُ” اھ (ج٥, ص٣٧٥, کتاب الاضحیۃ, الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر) یعنی بکری کے مالک نے اس کو ذبح کرنے کے ارادہ سے اپنا ہاتھ چھری پر رکھا قصاب کے ہاتھ کے ساتھ یہاں تک کہ دونوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ذبح کرنے میں تو شیخ نے فرمایا ان دونوں کو تسمیہ پڑھنا واجب ہے یہاں تک کہ اگر کوئی ترک کردے تو جانور حلال نہ ہوگا۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: “معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذابح کا ہاتھ کمزور ہو، ذبح میں دقت دیکھے تو دوسرا اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر دونوں مل کر ہاتھ پھیریں، اس صورت میں دونوں پر تکبیر واجب ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی قصدا تکبیرنہ کہے گا، ذبیحہ مردار ہوجائے اگر چہ دوسرا تکبیر کہے ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج٢٠, ص٢١٨, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “اگر بسم اللہ کہنا بھول گیا تو ذبح ہوگیا۔ جانور حلال ہے۔ اھ(فتاویٰ امجدیہ ج:۳، ص: ۳۰۱) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh