صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1405 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دو تین مرتبہ کہا میں نے چھوڑ دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,928

سوال (Question):

دو تین مرتبہ کہا میں نے چھوڑ دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دو تین مرتبہ کہا میں نے چھوڑ دیا تو طلاق ہوئی یا نہیں ؟| کہا قرآن کی قسم میں طلاق دیتا ہوں تو ؟ |غصہ میں طلاق دی تو کیا حکم ہے ؟

مسئلہ:- از: علی رضا ، اندولی ،اماری بازار، بستی ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ بہو نے کچھ بدتمیزی کی اس پر خسر نے کہا کہ میں مجبور ہوں ورنہ میں تم کو طلاق دلوا دیتا۔ تو اس گفتگو پر لڑکا جو اپنی بیوی سے ناراض نہیں تھا غصہ میں آکر کہا کہ ایک شادی آپ نے چھڑوا دیا تھا تو اس کو میں چھوڑ دیتا ہوں ۔ میں نے چھوڑ دیا۔ میں طلاق دیتا ہوں۔ دو تین مرتبہ کہا۔ پھر کہاں قرآن کی قسم میں طلاق دیتا ہوں۔اب وہ لڑکا اپنی اسی بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا الجوابــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں تین طلاقیں پڑ گئی اور بیوی نکاح سے نکل گئی ۔ اب بغیر حلالہ عورت کا نکاح لڑکا مذکور سے نہیں ہوسکتا ۔ خدا تعالی کا فرمان ہے:” فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره” (پ۲ ع۱۳) حلالہ کی صورت یہ ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ اس کے ساتھ کم سے کم ایک بار ہمبستری کرے پھر وہ طلاق دے دے یا مر جائے تو دوبارہ عدت گزارنے کے بعد وہ لڑکا مذکور کے نکاح میں آسکتی ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ ٤٧٣ میں ہے :” إن كان الطلاق ثلاثا لم تحل له حتي تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها كذا في الهداية . ملخصا.” اگر دوسرے شوہر سے ہمبستری کے بغیر طلاق دے دی یا مر گیا تو حلالہ صحیح نہ ہوگا ۔ کما فی حدیث العسیلۃ۔ البتہ اگر لڑکا اللہ کی قسم کھا کر بیان دے کہ اس وقت میرا غصہ اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ میری عقل بالکل ختم ہوگئی تھی اور مجھے معلوم نہ تھا کہ میں کیا کہتا ہوں اور میرے منہ سے کیا نکلتا ہے تو اس کی بات مان لی جائے گی اور طلاق کا حکم نہ دیں گے اگر وہ جھوٹی قسم کھائے گا تو وبال اس پر ہوگا۔ ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦٣٠ پر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح : جلال الدین أحمد الامجدی | کتبہ : محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh