صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1945 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دیوالی میں جو بونس دیا جاتا ہے اس کو لینا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,669

سوال (Question):

دیوالی میں جو بونس دیا جاتا ہے اس کو لینا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دیوالی میں جو بونس دیا جاتا ہے اس کو لینا کیسا ہے؟ Dewali Bonud Lena Kaisa hai

سائل: عبد الواجد قادری جبل پور یم پی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں بونس کالینا جائز ہے اس لئے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں اور حربی کافر کا مال جو بغیر دھوکہ کے اس کی رضا سے ملے مباح ہے‌ جبکہ جائز سمجھ کر لے۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے : “ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون ” اھ (ص : 300) یعنی یہاں کے کفار یقینا حربی ہیں اور علماء اس بات کو جانتے ہیں ھدایہ میں : ” ان مالھم مباح … فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذ لم یکن منہ غدر ” اھ ( کتاب البیوع ، باب الربا ، ج : 2 ص : 87 ملخصا ) یعنی کفار کا مال مباح ہےلہذا ان کا مال سوائے دھوکہ کے جس طریقے سے بھی مسلمان نے لے لیا مباح مال لیا ردالمحتار میں ہے : ” لاباس بان یاخذ اموالھم بطیب انفسھم بای وجہ کان لانه انما اخذ المباح علی وجه عری عن الغدر فیکون طیبا له “اھ یعنی حربی کافروں کا مال ان کی خوشی سے جس طرح چاہے لے کوئی حرج نہیں اس لئے کہ اس نے مال مباح ایسے طریقے سے حاصل کیا ہے جس میں دھوکہ نہیں ہے تو یہ اس کے لئے مباح ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے : ” جو مال غیر مسلم سے کہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بد عہدی کے ملے اسے لینا جائز ہے اگرچہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ اس کے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی”اھ ( ج: 17 ص: 325 ) اور اسی میں ہے : ” کافر غیر ذمی کامال بلا غدر جو حاصل ہو وہ مال مال مباح سمجھ کر لینا حلال ہے” اھ (ج: 17 ص: 341 ) فتاوی فیض الرسول میں ہے: “ہندوستان کے تمام کفار حربی ہیں اور حربی کا مال معصوم نہیں بلکہ مباح ہے بشرطیکہ ان کی رضا سے ہو اور بدعہدی نہ ہو… تواس کا لینا جائز ہے کہ وہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں “اھ (ج: 2 ص: 392 ملخصا ) فتاوی امجدیہ میں ہے: ” کافر حربی کا مال مسلمان کے لیے حلال ہے جب تک غدر یعنی عہد شکنی نہ ہو تو اس میں حرج نہیں”اھ ( ج: 3 ص: 204 ) نیز اسی میں ہے: ” کفار سے جو اموال ان کی خوشی سے ملیں وہ متعلقا جائز ہیں “اھ ( ج: 3 ص: 207 ) بہار شریعت میں ہے: “کافروں کی خوشی سے جس قدر ان کے اموال حاصل کرے جائز ہے… مگر یہ ضرور ہے کہ وہ کسی بدعہدی کے ذریعے حاصل نہ کیا گیا ہو کہ بدعہدی کفار کے ساتھ بھی حرام ہے”اھ ( ج: 2 ح: 11 ص: 153 ملخصاً ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
گورنمنٹ ملازمین کو جو جی، پی، ایف کا پیسہ کٹتا ہے اس کی زکوۃ کب اور کیسے ادا کی جائے 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh