صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #563 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,751

سوال (Question):

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے؟

سائل:عبد المجیب

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

دیوبندی وھابی غیر مقلد کی اذان میں نام رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سن کر صلی اللہ علیہ وسلم پڑھیں گے۔

فتاوی رضویہ میں ہے “اسم جلالت پر کلمہ تعظیم اور نامِ رسالت پر درود شریف پڑھیں گے اگرچہ یہ اسمائے طیبہ کسی کی زبان سے اداہوں مگر وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں”(ج٥،ص٤٢٢) واللہ تعالی اعلم۔

اسی طرح اذان میں نام رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سن کر انگوٹھے چومنا بھی جائز اسلئے کہ درود شریف پڑھنا اذان سے جدا عمل ہے اور اس میں اس اذان دینے والے کا کچھ دخل نہیں یعنی ایسا نہیں کہ اس کی اذان سے نام رسالت سن کر درود پڑھنے میں ثواب و فضائل میں کمی یا زیادتی ہوگی بلکہ درود پڑھنے والا بہرحال درود کے فضائل فوائد کو پاے گا اسی طرح انگوٹھے چومنا بھی اذان سے جدا عمل ہے اور اس میں بھی اس کا کچھ دخل نہیں اسلئے یہ بھی انگوٹھے چومنے کے فضائل و فوائد کو پانے والا ہوگا اسی سبب اذان کے جواب کی حاجت نہیں کیونکہ جب اس کی اذان اذان ہی میں شمار نہیں تو اذان کے جواب کا ثواب بھی حاصل نہ ہوگا۔

ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند ربی

مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٢٠ ستمبر ٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh