صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #45 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,317

سوال (Question):

ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا

سوال : زید نے اپنے گاؤں کے مدرسے کے روپے سے زمین خریدی، یہ کہہ کر کہ میں اپنے لیے زمین خرید رہا ہوں، زمین زیادہ ہے، اس میں اپنا روپیہ بھی لگاکر زمین خرید رہا ہوں ۔  مدسہ ہمیں پیشگی سات ہزار روپے دے دے، زمین مل جانے کے بعد میں پانچ منڈی زمین مدرسہ میں دے دوں گا ۔ پھر اس نے زمین خرید کر سب اپنی ملکیت میں کرلیا اب جب کہ اس سے زمین کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو کہہ رہا ہے کہ نہ میں روپیہ واپس کروں گا اور نہ ہی زمین دوں گا ۔ اس شخص کا بیٹا حافظ ہے اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ ۔ المستفتی:حافظ محمد فاروق احمد، گلہریا، سنت کبیر نگر، یوپی جواب  .

ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا

(۱)جب زید نےصاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ زمین اپنے لیے خریدے گا تو اسے مدرسے کے روپے دینا جائز نہ تھا ۔  مسلمانوں نے چندہ اس لیے نہیں دیا تھا کہ اسے جمع کرکے کسی کو قرض دے دیا جائے تو یہ چندہ دینے والوں کی مرضی کے خلاف دوسری غرض میں استعمال کرنا ہوا جو ناجائز و گناہ ہے ۔  یہ امانت میں خیانت بھی ہے اس لیے بھی ناجائز و گناہ ہے ۔ اگر زید نے خدا نہ کرے وہ روپے نہ دیے تو قرض دینے والوں پر اس کا پورا تاوان مدرسے میں جمع کرنا لازم ہوگا ۔ جن لوگوں نے مدرسے کا روپیہ قرض کے طور پر دینا منظور کیا، اجازت دی اور جن لوگوں نے اپنے ہاتھ سے دیا وہ سب گناہ گار ہوئے ۔  زید پر فرض ہے کہ مدرسے کے یہ روپے بلا تاخیر فوراً مدرسے کو واپس کرے یا پھر اس کے بدلے میں زمین مدرسے کو دے ۔ اگر مسلمان اس پر راضی ہوں دو میں سے ایک کرنا ضروری ہے تاکہ مدرسے کا حق اسے واپس پہنچ جائے ۔ یہ لزوم ایفائے حق کے لیے ہے ۔ اگر وہ مدرسے کا حق روپے سے یا اس کے بدلے میں زمین سے بصورت تراضی طرفین نہیں ادا کرتا تو سخت گنہ گار حق اللہ میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہوگا ۔ ابھی معلوم ہوا کہ یہ معاملہ بارہ سال پہلے کا ہے تو اب تو زمین کا ریٹ بہت بڑھ چکا ہوگا اور سات ہزار روپے کے بدلے میں اب جو زمین ملے گی وہ بہت معمولی ہوگی اگر ایسا ہی ہو تو زید وہ روپے واپس کر دے ۔  واپسی سے انکار پھر دیر پر دیر کرنے کی وجہ سے وہ فاسق ہے مگر یہ کہ وہ ادا کرکے تائب ہوکر اصلاح حال کرلے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔  (۲) اس کے بیٹے کو اگر یہ معلوم ہو کہ اس کے والد نے مدرسے کے روپے ناجائز طور پر دبا رکھے ہیں مگر وہ اپنے والد کے اس فعل پر راضی نہ ہو   ۔      اسے سمجھاتا ہو کہ مدرسے کے روپے ادا کردو اور ادا نہ کرنے پر ناراض ہو تو باپ کے گناہ کی وجہ سے بیٹے پر کوئی الزام نہ ہوگا ۔ ارشاد باری ہے: لا تزر وازرۃ وزر أخریٰ ۔ (سورہ فاطر، آیت: ۱۸) کسی کے گناہ کا بدلہ کسی اور کو نہیں دیا جاے گا ۔ نیز ارشاد ربانی ہے: لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ(سورۃ المائدہ، آیت: ۱۰۵) اس صورت میں بیٹےکی اقتدا میں نماز بلا کراہت صحیح و درست ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم ۔ کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی ۔
ناشریا وارث کے لیے حق طباعت کامطالبہ کرناجائز
راکھی بندھوانا / Raakhi Bandhwana Kaisa Hai
 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh