صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2010 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

رات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,567

سوال (Question):

رات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رات میں ناخن کاٹنا کیسا ؟

مفتی صاحب کیا رات میں ناخن کاٹنا درست ہے ؟ المستفتی: مولانا جاوید فیضی مہراج گنج یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب درست ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “حكي أن هارون الرشيد سأل أبا يوسف – رحمه الله تعالى – عن قص الأظافير في الليل؟ فقال: ينبغي، فقال: ما الدليل على ذلك؟ فقال: قوله عليه السلام: الخير لايؤخر” اھ (ج٥، ص٣٥٨، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء وقلم الاظفار…) عبّاسی خلیفہ ہارون رَشید نے امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے رات مىں ناخن تراشنے (یعنی کاٹنے)کے بارے میں دَرْیافْت کیا تو آپ نے فرمایا: جائز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: اس پر کیا دلیل ہے؟تو آپ نے فرمایا:حدیثِ پاک میں ہے:”اَلْخَيْرُ لَا يُؤَخَّرُ“یعنی بھلائى کے کام مىں تاخیر نہ کى جائے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh