صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1762 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

رام اور رحیم ایک ہی نام ہیں کہنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,593

سوال (Question):

رام اور رحیم ایک ہی نام ہیں کہنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رام اور رحیم ایک ہی نام ہیں کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماےکرام حسب ِ ذیل مسائل میں : 1. زید کہتا ہے کہ رام اور رحیم ایک ہی نام ہیں ۔ یعنی خدا رام بھی ہے اور رحیم بھی، آیا زید کا یہ کہنا درست ہے؟ 2. زید کہتا ہے مندر اور مسجد بھی ایک ہیں ۔ آیا زید کا یہ قول صحیح ہے یا نہیں ؟ ان سوالوں کا جواب تفصیل سے تحریر فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں ۔ الجوابـــــــــــــــــ 1. زید جاہل ملحد ہے ، وہ رام اور رحیم کا معنی نہیں جانتا۔ رحیم کا معنی رحم و کرم فرمانے والا، رام کا معنی رمنے والا اور کسی چیز میں سمانے والا۔ خدا وند قدوس رحیم ہے رام ہر گز نہیں ۔ خدا کا رام ہونا محال ہے ۔ یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے ۔ وہ خدا کو ہر شے میں اسی طرح سمایا ہوا مانتے ہیں ، جیسے کپڑے میں رنگ اور پھول میں خوشبو، اسی لیے اس کو رام کہتے ہیں ۔ یہ حلول ہے اور یہ خدا کے لیے محال ہے۔ یہ عقیدہ کفر و الحاد ہے۔ (2) مسجد خانۂ خدا ہے ، اللہ وحدہ لا شریک لہ کی خالص عبادت کا مکان ہے۔ مندر بت خانہ ہے ، بتوں کی پوجا کی جگہ ہے ، شرک کا گھر ہے ۔ مسجد مندر کو ایک کہنا سخت جہالت ہے، کفر و الحادہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کتبہ: عبد العزیز عفی عنہ ماخوذ از فتاوی اشرفیہ 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh