صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1146 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

راہ میں ضمنی طور پر کہیں رکے اور پورا سفر مسافت سفر ہے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,082

سوال (Question):

راہ میں ضمنی طور پر کہیں رکے اور پورا سفر مسافت سفر ہے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

راہ میں ضمنی طور پر کہیں رکے اور پورا سفر مسافت سفر ہے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کاشی پور کا باشندہ ہے اور بریلی شریف میں امامت کرتا ہے. اس کا پندرہ دن سے پہلے وطن واپسی کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ حکم قصر سے بچنے کے لیے یہ حیلہ کرتا ہے کہ وطن سے روانگی کے وقت ارادہ کرتا ہے کہ رودر پور رکوں گا پھر بریلی سفر کرونگا. ردر پور اتر کر وہ کسی متعلق سے ملاقات کرتا ہے تقریبا ایک گھنٹہ ٹھہر جاتا ہے پھر بریلی کے لیے روانہ ہوتا ہے. رودر پور مسافت سفر نہیں ہے ۔ در حقیقت زید کو مقام مذکور کوئی کام نہیں ہے صرف حیلہ کے طور پر یہ کیا جاتا ہے کیا اس کا یہ حیلہ معتبر ہو گا. اور وہ بریلی آنے پر مسافر قرار نہیں پائے گا؟ معلوم رہے کہ رودر پور سے بریلی تک مسافت سفر نہیں. بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مذکورہ میں زید کا حیلہ معتبر نہیں. راستہ میں اور بریلی شریف پہنچنے پر وہ مسافر ہی ہوگا اس لئے کی رو در پر ٹھہرنے کی نیت اس کی ضمنی طور پر ہے اصل ارادہ اس کا بریلی شریف ہی جانے کا ہے اور ضمنا کہیں ٹھہرنے کی نیت سے سفر منقطع نہیں ہوتا. فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 657 میں مسلک متقسط سے ہے ” ذكر الفقهاء في حيلۃ دخول الحرم بغير احرام ان يقصد بستان بنی عامر ثم يدخل مكۃ فالوجه في الجمله ان يقصد البستان قصدا اوليا ولا يضره دخول الحرم بعده قصدا ظمنيا وعارضیا كما اذا قصد مدنی جدۃ لبيع وشراء اولا ويكون في خاطره انه اذا فرغ منه ان يدخل مكۃ ثانيا بخلاف من جاء من الهند مثلا بقصد الحج او لا و انه يقصد دخول جده طبعا ولو قصد بيعا وشراء ١ھ. اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: آدمی اگر کسی مقام اقامت سے خاص ایسی جگہ کے قصد پر چلے جو وہاں سے تین منزل ہو تو اس کے مسافر ہونے میں کلام نہیں اگرچہ راہ میں ضمنی طور پر اور مواضع میں بھی دو ایک روز ٹھہرنے کی نیت رکھے. کما افادہ الملا علی قاری بقولہ بخلاف من جاء من الھند مثلا بقصد الحج اولا الخ ( فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 658) واللہ تعالی اعلم کتبـــــہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh