صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #361 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

رحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,627

سوال (Question):

رحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے متعلق کہ عورت کے حمل کو روکنے کے لئے ڈاکٹر رحم میں دوا رکھنے کے لیے دیتے ہیں آیا دوا رکھنے سے غسل ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا جواب عنایت فرما ئیں کرم ھوگا۔

سائل:ساحل ملک

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

رحم میں دوا رکھنے سے غسل باقی رہے گا کیونکہ رحم میں دوا رکھنا موجب غسل نہیں۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

١٢جولائی٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh