ساس بہو کے جھگڑے اور بیوی کا الگ رہائش کا شرعی حق
سوال (Question):
جوائنٹ فیملی میں روز جھگڑے ہوں تو کیا بیوی شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شرعاً بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر اسے ایک ایسا کمرہ فراہم کرے جس میں اس کی مرضی کے بغیر کوئی (ساس نند بھی) نہ آ سکے۔ اگر جوائنٹ فیملی میں پردے کا مسئلہ ہو، یا ساس بہو کی نہ بنتی ہو جس سے ازدواجی زندگی خراب ہو رہی ہو، تو بیوی کا الگ رہائش (Separate Accommodation) کا مطالبہ کرنا اس کا شرعی حق ہے اور شوہر پر استطاعت کے مطابق دینا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔