صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1253 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

رضاعی بھانجی سے نکاح حرام ہے از مفتی صدام حسین فیضی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,725

سوال (Question):

رضاعی بھانجی سے نکاح حرام ہے از مفتی صدام حسین فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رضاعی بھانجی سے نکاح حرام ہے

ایک مسئلہ کا جواب دیجئے زید نے اپنی نانی کا دودھ پیا ہے اور اسکی نانی کی بیٹی کی بیٹی یعنی خالہ کی لڑکی سے اس کی شادی لگی ہوئی ہے اس پر کافی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں زید کا اسکی خالہ کی لڑکی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسی حالت میں واقعی زید کا نکاح اسکی خالہ کی لڑکی سے نہیں ہوسکتا ؟ اور اگر نکاح ہو سکتا ہے تو لوگوں کا یہ کہنا کہ نکاح نہیں ہوسکتا کیسا ہے ۔ سائل : نظام الحق عاشق منظری منڈیرہ یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب لوگوں کی بات درست ہے واقعۃ صورت مستفسرہ میں زید کی شادی اس کے خالہ کی لڑکی سے نہیں ہوسکتی کہ وہ زید کی رضاعی بھانجی اور زید اس کا رضاعی ماموں ہے اور رضاعی بھانجی سے نکاح ایسے ہی حرام ہے جیسے حقیقی بھانجی سے ۔ صحیح البخاری میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :‌ ” قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الوِلاَدَةُ “ اھ ( ج2ص764 کتاب النکاح باب و أمهاتكم اللاتى أرضعنكم ويحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ) یعنی رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔ جوہر نیرہ میں ہے: “ کذلک بنات اختہ من الرضاعۃ لقول رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم یحرم من الرضاع مایحرم من النسب “ اھ ( ج ٢ ص ١١٠ کتاب النکاح ) یعنی حقیقی ہی کی طرح رضاعی بہن کی بیٹیاں بھی حرام ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے جو نسب سے حرام ہے وہ دودھ سے بھی حرام ہے۔ درمختار مع ردالمحتار میں ہے: ” حرم علی المتزوج ذکرا اوانثی اصلہ وفروعہ واختہ وبنتھا والکل رضاعا ” اھ ملخصا ( ج ٤ ص ١٠٠ – ١٠١ کتاب النکاح، فصل فی المحرمات ) یعنی مرد وعورت پر اس کے اصول و فروع  بہن اور بھانجی حرام ہیں اور یہ سب دودھ کے رشتے سے بھی حرام ہیں۔ تبیین الحقائق میں ہے: ” یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھن امہ واختہ وبنات اخوتہ ” اھ ( ج ٢ ص ٤٦٣ کتاب النکاح ) یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں ، بہن اور رضاعی بہن کی بیٹیاں۔ اعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :” رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں، بھانجی، بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں ” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم ج ١١ ص ٤٩٨ کتاب النکاح ، باب المحرمات ، رسالہ الجلی الحسن فی حرمۃ ولد اخی اللبن ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــــہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ١٣ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ مطابق ١٧ جنوری ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh