Fatwa #1051
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,270
سوال (Question):
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
سوال : ایک ماں کی دور لڑکیاں ہیں. بڑی لڑکی کا نام ہاجرہ ہے اور چھوٹی کا نام آمنہ ۔ ان دونوں کی ماں کا انتقال ہوگیا آمنہ گود میں تھی تو ہاجرہ نے اپنی بہن کو دودھ پلایا اب آمنہ بالغ ہو گئی اور اس کی شادی بھی ہوگئی اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو آمنہ کی اس لڑکی کا نکاح حاضرہ کے لڑکے کے ساتھ کرنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفسرہ میں آمنہ کی لڑکی کا نکاح ہاجرہ کے لڑکے سے کرنا حرام ہے ہر گز جائز نہیں. اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کے رضاعی ماموں بھانجی ہیں اور ماموں بھانجی کا نکاح جیسا کہ نسبا حرام ہے رضاعا بھی حرام ہے ۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ۔ هذا ما عندي والعلم عند الله تعالى ورسوله وجل جلالہ وصل المولى تعالى عليه وسلم كتبــــــــــــــــــــــه : مفتی جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 717 کتاب الرضاع
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9