Fatwa #1678
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,470
سوال (Question):
روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
روزوں کی نیت کا وقت | روزوں کی نیت کب سے کب تک کر سکتے ہیں
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔ اگر کسی نے نفل روزے کی رات میں نیت کی تھی کی اور صبح کو اُسکی آنکھ نہیں کھلی اور اُسنے صبح فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی اور آنکھ دوپہر 1 بجے کھلی تو کیا روزہ ہو جائیگا اور کیا رات کی نیت کافی ہے؟ سائل : تابش چشتی الجواب رات میں روزے کی نیت کی اور سحری یا فجر کے وقت اس کی آنکھ نہ کھلی، بلکہ دوپہر کے بعد آنکھ کھلی تو رات کی نیت سے روزہ صحیح ہوجائے گا۔اب یہ روزہ چاہے نفل ہو یا فرض یا واجب۔ کیوں کہ غروبِ آفتاب کے بعد رات کے وقت کل آنے والے دن کے روزہ کی نیت صحیح ہے۔ یوں ہی صبح صادق کے وقت آج کے دن کے روزہ کی نیت صحیح ہے۔ ہاں! اگر رات میں روزے کی نیت کی اور پھر روزہ رکھنے کا ارادہ ختم کردیا تو اب وہ پہلی نیت کارآمد نہ ہوگی جب تک دوبارہ روزہ رکھنے کی نیت یعنی پختہ ارادہ نہ کرے۔ اور تین قسم کے روزے ایسے ہیں کہ اگر ان کی نیت ضحوہ کبری یعنی نصف النہار شرعی سے پہلے کرلے بشرطے کہ طلوع فجر کے بعد کھانا پینا یا جماع نہ ہوا ہو تو وہ روزے صحیح ہوجاتے ہیں۔ وہ تین روزے یہ ہیں(١) فرضِ معین، جیسے رمضان المبارک کا ادا روزہ (٢) نذرِ معین ، مثلا اِس سال کے ستائیس رجب کی نذر کا روزہ اور (٣) نفل روزے۔ اِن تینوں روزوں کے علاوہ دیگر روزے مثلا کفاروں کے روزے، قضا کے روزے، نذر غیر معین کے روزے ان سب میں ضروری ہے کہ یا تو عین صبحِ صادق کے وقت نیت ہو یا غروبِ آفتاب کے بعد رات کے کسی حصہ میں نیت ہو۔صبحِ صادق کے بعد کی نیت ان روزوں میں معتبر نہیں۔ در مختار میں ہے: “(فَيَصِحُّ) أَدَاءُ (صَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ وَالنَّفَلِ بِنِيَّةٍ مِنْ اللَّيْلِ) فَلَا تَصِحُّ قَبْلَ الْغُرُوبِ وَلَا عِنْدَهُ (إلَى الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا) بَعْدَهَا وَلَا (عِنْدَهَا) اعْتِبَارًا لِأَكْثَرِ الْيَوْمِ۔۔۔(وَالشَّرْطُ لِلْبَاقِي) مِنْ الصِّيَامِ قِرَانُ النِّيَّةِ لِلْفَجْرِ وَلَوْ حُكْمًا وَهُوَ (تَبْيِيتُ النِّيَّةِ) لِلضَّرُورَةِ۔”انتہی ملتقطا۔ (در مختار، کتاب الصوم) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ یکم رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٣/ اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9