صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #999 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

روزہ کی حالت میں تمباکو کھانے سے روزہ باقی رہے گا یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,016

سوال (Question):

روزہ کی حالت میں تمباکو کھانے سے روزہ باقی رہے گا یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

روزہ کی حالت میں تمباکو کھانے سے روزہ باقی رہے گا یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید امامت بھی کرتا ہے،نماز تراویح بھی پڑھاتا ہے، اچھا مبلغ بھی ہے لیکن بکر کا یہ کہنا ہے کہ زید حالت روزہ میں تمباکو کھاتا ہے۔ اب مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ ذید کا روزہ بر قرار رہے گا یا نہیں ۔ زید کے لیے کیا حکم شرعی ہوگا؟ جواب عنایت فرما کر خدمت کا موقع عطا فرمائں ۔ ساٸل: فیصل رضا قادری، تھنہ منڈی راجوری۔ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهابـــــ تمباکو کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کھانے والے پر کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔ روزہ توڑنے کے کفارہ کے سلسلہ میں قانون شریعت میں مذکور ہے ۔ “روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک رقبہ (لونڈی یا غلام) آزاد کرے ۔ اور اگر یہ نہ ہو سکے تو لگا تار برابر ساٹھ روزے رکھے ۔ اگر یہ بھی نہ کرسکے تو ساٹھ مسکینوں کو بھر بھر پیٹ دونوں وقت کھانا کھلائے ۔ اور روزہ رکھنے کی صورت میں اگر بیچ میں ایک دن کا بھی روزہ چھوٹ گیا تو اب سے ساٹھ روزے رکھے ۔ پہلے کی گنتی نہیں ۔ انسٹھ روزے رکھ چکا تھا اور ساٹھواں نہ رکھ سکا بیماری وغیرہ کسی عذر سے تو پھر سے ساٹھ پورے لگاتار رکھے پہلے کے انسٹھ بیکار ہوگئے ۔ البتہ عورت کو اگر حیض آجائے تو حیض کی وجہ سے جتنے ناغے ہوئے یہ ناغے نہیں گنے جائیں گے یعنی پہلے کے روزے اور حیض کے بعد والے روزے دونوں ملکر ساٹھ ہوجانے سے کفارہ ادا ہو جائے گا”(ص ۱۷۰) لہزا زید کے متعلق بکر کا یہ بیان کہ وہ روزہ کی حالت میں تمباکو کھاتا ہے اگر واقعی ہے تو زید پر روزوں کا کفارہ لازم ہوگا۔ لیکن اگر بکر کے پاس اس پر دلیل نہ ہو تو یہ بکر کی طرف سے بدگمانی ہے ۔ اور کسی مسلمان پر بدگمانی حرام ہے ۔ بکر حق العبد میں گرفتار ہے زید سے معافی مانگے ۔ فتاوی رضویہ شریف میں ہے “پان جب منہ میں رکھا جائے گا اس کا عرق ضرور حلق میں جائے گا ۔ اور تمباکو جیسی کھائی جاتی ہے وہ اگر منہ میں ڈالی جائے گی تو یقینا اس کا جرم لعاب کے ساتھ حلق میں جائے گا ۔ اور ناس تو بہت باریک چیز ہے جب اوپر کو سونگھی جائے گی ضرور دماغ کو پہنچے گی اور ان طلب والوں کے مقاصد بھی یوہیں بر آئیں گے ۔ اور فقہیات میں ایسا مظنون مثل متیقن ہے یہ سب شیطانی وسوسے ہیں ان چیزوں کے استعمال سے جو روزہ جائے اس کی فقط قضا نہیں بلکہ کفارہ بھی ضرور ہوگا کہ ان میں صلاح بدن وقضائے شہوت ہے ۔ اور بالفرض ان میں احتیاط یقینی کی صورت بھی متصور ہوتی جب بھی ممانعت میں شک نہ تھا ۔ جیسے مباشرت فاحشہ کہ بے انزال ناقض نہیں مگر ممنوع ضرور ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ “من وقع فی الشبهات وقع فی الحرام كالراعی يرعی حول الحمی يوشك ان يقع فيه” واللہ تعالی اعلم”(ج۴ ص۵۸۶ تا ۵۸۷) والله تعالى اعلم بالحق والصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ،پلانگڑ،تھنہ منڈی،راجوری،جموں وکشمیر ۱۲/ رمضان المبارك مطابق ۶ /مئ ۲۰۲۰ء الجواب صواب والمجیب نجیح محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ،مرکزی دار الافتا اہلسنت صوبہ جموں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh