Fatwa #61
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
روزے کی حالت میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,557
سوال (Question):
روزے کی حالت میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سوال
روزے کی حالت میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا مفسد صوم ہے یا نہیں؟ بصورتِ فسادِ صوم قضا لازم ہوگی یا فدیہ دینا کافی ہوگا؟
جواب:مریض کئی قسم کے ہوتے ہیں : ٭ایک وہ جو رات کے اوقات میں انہیلر استعمال کر لیں تو دن روزے کے ساتھ بخوبی گزار سکتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے روزے کے دن میں انہیلر کا استعمال جائز نہیں۔ بلا اضطرار و پریشانی دن میں استعمال کی صورت میں روزے کی قضا و کفارہ دونوں لازم ہوگا ۔ ایسا مریض اگر کسی وجہ سے سخت اضطراب کا شکار ہو جس کی وجہ سے انہیلر کا استعمال ضروری ہو تو اس کے لیے اجازت ہے مگر روزے کی قضا کرنی ہوگی ۔ وہ مریض جن کا مرض شدید ہے اور دن کو بھی انہیلر استعمال کرنے سے ان کے لیے چارۂ کار نہیں تو وہ روزے نہ رکھیں ۔ اور جب انھیں سہولت کے ایام میسر ہوں تو روزے کی قضا کریں ۔ بالفرض ایسے ایام میسر نہ ہوں اور عمر کے لحاظ سے انھیں آیندہ ایسے دن ملنے کی امید نہ ہو تو وہ روزے کا فدیہ دیں ۔ اس کے دلائل یہ ہیں: فتاویٰ رضویہ میں ہے: طاقت نہ ہونا ایک تو واقعی ہوتا ہے اور ایک کم ہمتی سے ہوتا ہے ۔ کم ہمتی کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اکثر اوقات شیطان دل میں ڈالتا ہے کہ ہم سے یہ کام ہرگز نہ ہوسکے گا اور کریں گے تو مرجائیں گے، بیمار پڑ جائیں گے ۔ پھر جب خداپر بھروسہ کرکے کیا جاتا ہے تو اﷲتعالیٰ ادا کرادیتا ہے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کا دھوکا تھا۔ ۷۵ برس کی عمر میں بہت لوگ روزے رکھتے ہیں ۔ ہاں! ایسے کمزور بھی ہوسکتے ہیں کہ ستّر ہی برس کی عمر میں نہ رکھ سکیں تو شیطان کے وسوسوں سے بچ کر خوب صحیح طور پر جانچ چاہیے، ایک بات تو یہ ہُوئی ۔ دوسری یہ کہ ان میں بعض کو گرمیوں میں روزہ کی طاقت واقعی نہیں ہوتی مگر جاڑوں میں رکھ سکتے ہیں ۔ یہ بھی کفارہ نہیں دے سکتے،بلکہ گرمیوں میں قضا کرکے جاڑوں میں روزے رکھنا ان پر فرض ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان میں بعض لگاتار مہینہ بھر کے روزے نہیں رکھ سکتے ۔ مگر ایک دو دن بیچ کرکے (ناغہ کرکے) رکھ سکتے ہیں تو جتنے رکھ سکیں اُتنے رکھنا فرض ہے ۔ جتنے قضا ہوجائیں جاڑوں میں رکھ لیں ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفار ہ دینے کی اجازت نہیں، بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں ۔ اگر قبل شفاموت آجائے تواس وقت کفارہ کی وصیت کردیں ۔ غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں، نہ لگاتار نہ متفرق، اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اُس عذر کے جانے کی امید نہ ہو، جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کر دیا کہ گنڈے دار روزے متفرق کرکے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھاپا تو جانے کی چیز نہیں، ایسے شخص کو کفارہ کاحکم ہے ۔ ہر روزے کے بدلے پونے دوسیر گیہوں اٹھنی اُوپر بریلی کی تول سے(۵)، یا ساڑھے تین سیر جَو ایک روپیہ بھر اُوپر(۶)۔ اسے اختیار ہے کہ روز کا (کفارہ/ فدیہ)روز دے دے یا مہینہ بھر کا پہلے ہی ادا کردے یا ختمِ ماہ کے بعد کئی فقیر وں کو دے یا سب ایک ہی فقیر کو دے، سب جائز ہے ۔ (جلد چہارم: ص۶۱۲، رضا اکیڈمی، ممبئی) اسی میں ہے: اگر صائم اپنے قصد وارادہ سے اگریا لوبان خواہ کسی شَے کا دُھواں یاغبار اپنے حلق یا دماغ میں عمداً بے حالتِ نسیانِ صوم داخل کرے، مثلاً بخور سلگائے اور اسے اپنے جسم سے متصل کرکے دُھواں سُونگھے کہ دماغ یاحلق میں جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا ۔ درمختار میں ہے:مفادہ أنہ لو أدخل حلقہ الدخان أفطر أی دخان کان ولو عودا أو عنبرا لو ذاکراًلإمکان التحرز عنہ فلیتنبہ لہ کما بسطہ الشرنبلالی. علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام وامداد الفتاح ومراقی الفلاح تینوں کتابوں میں فرمایا:وہذا لفظالمراقی- : وفیما ذکرنا إشارۃ إلی أنہ من أدخل بصنعہ دخانا حلقہ بأی صورۃ کان الإدخال فسد صومہ سواء کان دخان عنبر أوعود أو غیرہما حتی من تبخر ببخور فآواہ إلی نفسہ واشتم دخانہ ذاکراً لصومہ أفطر لإمکان التحرز عن إدخال المفطر جوفہ ودماغہ وہذا مما یغفل عنہ کثیر من الناس فلیتـنبّہ لہ. ولا یتوہم أنہ کشم الورد ومائہ والمسک لوضوح الفرق بین ہواء تطیب بریح المسک وشبہہ وبین جوہر دخان وصل إلی جوفہ بفعلہ.(جلد چہارم ، ص۵۸۸،۵۸۹ ، رضا اکیڈمی ، ممبئی) ٭فتاویٰ عالمگیری میں ہے : وَلَوْ قَدَرَ عَلَی الصِّیَامِ بَعْدَ مَا فَدَی بَطَلَ حُکْمُ الْفِدَاء ِ الَّذِی فَدَاہُ حَتَّی یَجِبَ عَلَیْہِ الصَّوْمُ ہٰکَذَا فِی النِّہَایَۃِ . (کتاب الصوم ، الباب الخامس:الأعذار التی تبیح الإفطار، ج1، ص228، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) ٭فتاویٰ رضویہ میں ہے: فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا گیا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آیندہ طاقت کی امید، کہ عمر جتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اس کے لیے فدیہ کا حکم ہے۔ (ج۴،ص۶۰۲، رضا اکیڈمی ، ممبئی) ٭اسی میں ہے: کنزمیں ہے:الشیخ الفانی ھو یفدی فقطغیر(شیخ) فانی پر قضا فرض ہے ۔پیش از قضا قضا آجائے تو فدیہ کی وصیت واجب ۔کمافی ردالمحتار وغیرہ من الأسفار.(ج4، ص 611، رضا اکیڈمی، ممبئی) واللہ تعالی أعلم ۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔روزے کی حالت میں ڈائلیسِس(خون کی صفائی)کرانے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں
روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لینے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9