Fatwa #58
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لیناجائز ہے یا نہیں ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,027
سوال (Question):
روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لیناجائز ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لیناجائز ہے یا نہیں ؟
دَورِحاضر میں علاج ومعالجے کے کچھ ایسے جدید طریقے رائج ہیں جن کا ذکر کتب فقہ میں صراحت کے ساتھ نہیں ملتا یا ان کے بارے میں فقہاے کرام کے درمیان اختلاف نظر آتاہے اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ ایسے مسائل سیمینار میں لائے جائیں اورفقہاے کرام کی بحث وتحقیق کے بعد جو امور طے ہوں ان سے اپنے دینی بھائیوں کو آگاہ کیاجائے تاکہ وہ آسانی کے ساتھ ان پر عمل کرسکیں۔طے شدہ امور سوال و جواب کی شکل میں حسب ذیل ہیں:روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لیناجائز ہے یا نہیں ؟
جواب: کتب فقہ میں ان امور کی صراحت ہے کہ اگر کوئی ایسا مریض ہے جو روزہ نہیں رکھ سکتا ۔ یا روزہ سے اسے ضرر ہوگا، یا مرض بڑھے گا ،یا دیر میں اچھا ہوگا اوراس کی کوئی علامت ظاہر ہو ۔ یا یہ بات تجربہ سے ثابت ہو یا مسلم طبیب حاذق ، غیر فاسق کے بیان سے معلوم ہو تو جتنے دنوں تک یہ حالت رہے ۔ اسے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے اور بعد صحت ان کی قضا کرے ۔ اس صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوتا۔اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے : فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْر(پارہ۲، البقرہ۲، آیت۱۸۵) ترجمہ: تو تم میں جو کوئی یہ (رمضان کا)مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا ۔ (کنزالایمان) لہٰذا اگر ایسی صورت حال سامنے ہو جس میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے تو بالاتفاق روزے کی حالت میں گلوکوز یا انسولین لینا یاجس دوا کی بھی ضرورت ہو اسے استعمال کرنا جائز ہوگا ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے ۔ المرِیضُ إذَا خَافَ علی نَفْسِہِ التَّلَفَ أو ذَہَابَ عُضْوٍ یُفْطِرُ بِالْإِجْمَاعِ وَإِنْ خَافَ زِیَادَۃَ الْعِلَّۃِ وَامْتِدَادَہَا فَکَذٰلِکَ عِنْدَنَا وَعَلَیْہِ الْقَضَاء ُ إذَا أَفْطَرَ. کَذَا فی الْمُحِیطِ ۔ْ ثُمَّ مَعْرِفَۃُ ذٰلِکَ بِاجْتِہَادِ الـْمَرِیْضِ. وَالْاِجْتِہَادُ غَیْرُ مُجَرَّدِ الْوَہْمِ بَلْ ہُوَ غَلَبَۃُ ظَنٍّ عَنْ أَمَارَۃٍ أوْ تَجْرِبَۃٍ أوْ بِإِخْبَارِ طَبِیْبٍ مُسْلِمٍ غَیْرِ ظَاہِرِ الْفِسْقِ. کَذَا فی فَتْحِ الْقَدِیر.(ج: 1، ص: 227کتاب الصوم ، الباب الخامس فی الأعذار التی تبیح الإفطار، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) و اللہ تعالی أعلم. مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔۔دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا کیسا ہے
دیوبندی کےپیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9