صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2750 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

رکوع میں بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟ محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,998

سوال (Question):

رکوع میں بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟ محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رکوع میں بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟ محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

مسئلہ؛ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ نماز وتر میں بھول کر رکوع کی تسبیح کی جگہ بسم اللہ پڑھ لی نماز کا کیا حکم ہو گا جواب عنایت فرمائیں؟ الجواب بعون الملک العزیز الوھاب حالت رکوع میں بسم اللہ شریف پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ آیت قرآنی ہے قیام کے علاوہ کسی رکن میں بسم الله شریف کا پڑھنا جائز نہیں۔ (فتاویٰ مرکز تربیت افتاء ج1 ص181) اعلٰی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ بسم اللہ شریف کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ شریف پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیت قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے “اھ (فتاویٰ رضویہ ج3 ص134) (رضا فاؤنڈیشن جلد6 ص349) یہ جانتے ہوئے کہ یہ بسم اللہ شریف کا محل نہیں ہے تبھی بسم اللہ شریف پڑھے گا تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی نماز واجب الاعادہ ہے۔ اور اگر بھول کر بسم اللہ شریف پڑھ لیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔۔۔ کتبہ: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی حفظہ اللہُ تعالیٰ (بچباری آبادپور کٹیہار الھند)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh