صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1557 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

رہنے کے لیے زمین خریدی پھر اسے بیچ دیا تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے?

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,895

سوال (Question):

رہنے کے لیے زمین خریدی پھر اسے بیچ دیا تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے?

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

رہنے کے لیے زمین خریدی پھر اسے بیچ دیا تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے?

سوال : ایک شخص نے اپنے رہنے کا مکان بنانے کے لئے زمین خریدی پھر اسے نامناسب قرار دے کر بیچنے کی نیت کی اور مکان بنانے کے لیے دوسری زمین خریدی تو پہلی زمین کی مالیت پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــ زکوۃ فرض ہونے کے لئے تین قسم کی چیزوں کا ہونا ضروری ہے ثمن یعنی سونا چاندی، مال تجارت، چرائی پر چھوٹے جانور. اس کے علاوہ پر زکوۃ واجب نہیں جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں زکوٰۃ صرف تین چیزوں پر ہے سونا چاندی کیسےہی ہوں، پہننے کے ہوں یا برتنے کے یا رکھنے کے، سکہ ہو یا پتر یا ورق، دوسرا چرائی پر چھوٹے جانور، تیسرے تجارت کا مال باقی کسی چیز پر نہیں. (فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ 428) اور اسی طرح بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 18 پر بھی ہے لہذا اس شخص نے جو زمین خریدی وہ ان تینوں قسموں میں سے کسی میں بھی داخل نہیں لہذا اس پہلے زمین کی خریداری پر زکوۃ واجب نہیں. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد عبد الحی قادری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh