صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1299 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,685

سوال (Question):

زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

زبردستی طلاق کے پیپر پر دستخط کرائی گئی تو طلاق ہوگی یا نہیں ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید شراب پیتا ہے اور اپنی بیوی کو مارتا ہے تو بیوی کے چند رشتہ داروں نے زید سے طلاق کا مطالبہ کیا اس نے کہا ہم طلاق نہیں دیں گے تو مار پیٹ کر ایک سادہ کاغذ پر دستخط کرایا۔ اور اس پر بیوی کی طرف سے طلاق دینا لکھا گیا۔ زید کا بیان ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ صرف مار کے خوف سے سادہ کاغذ پر دستخط کر دیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق پڑی یا نہیں ؟ بینوا توجروا الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں اگر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا صحیح اندیشہ ہو گیا تھا اور اس صورت میں اس نے سادہ کاغذ پر یہ جانتے ہوئے دستخط کر دیا اس پر ہماری طرف سے طلاق لکھی جائے گی لیکن اس نے نہ طلاق کی نیت کی اور نہ زبان سے طلاق دی تو وہ واقع نہیں ہوئی ۔ اور اگر اکراہ شرعی کے بغیر سادہ کاغذ پر دستخط کردیا یہ جانتے ہوئے کہ اس پر ہماری طرف سے ہماری بیوی کو طلاق لکھی جائے گی تو اس صورت میں طلاق پڑگئی ۔ فتاویٰ قاضی خان مع ہندیہ جلد اول صفحہ ٤٤١ میں ہے : ” رجل اكره بالضرب والحبس علي ان يكتب طلاق امراته فلانة بنت فلان فكتب امراته فلانة بنت فلان طالق لا تطلق امراته لان الكتابه مقام العبارة باعتبار الحاجة ولاحاجة ههنا.” اور کنز الدقائق میں ہے :” يقع طلاق كل زوج عاقل بالغ ولو مكرها. ” بحر الحرائق ميں ہے :” قوله ولو مكرها أي ولو كان الزوج مكرها علي انشاء الطلاق لفظا. والله تعالى اعلم. كتبہ : مفتی جلال الدين احمد الامجدي

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh