Fatwa #87
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,578
سوال (Question):
زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین۔ زید جس کے دو لڑکے ہیں خالد اور عمر دونوں ایک ساتھ تجارت کرتے ہیں زید نے اپنی زندگی ہی میں اپنی پراپرٹی کا کچھ حصہ اپنے لڑکے عمر کی بیوی کے نام کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ زید کے انتقال کے بعد وہ پراپرٹی جو عمر کی بیوی نام ہے اس میں خالد کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں ۔ المستفتی وزیر احمد قادری کرلا ایسٹ مہاراشٹر الجواب:زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟ صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے اپنی پراپرٹی کا ایک حصہ اپنے ایک بیٹے عمرکی بیوی کے نام کرکے اور اس پر قبضہ دلانے کے بعد انتقال کیا ہو تو اس پراپرٹی میں اس کے دوسرے لڑکے خالد اور زید کے دوسرے وارثوں کا شرعا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اسی طرح کے ایک مسئلہ کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: “صورت مستفسرہ میں وہ نصف جائداد کہ زید نے اپنی بہو کو دی اس کی مالک مستقل بہو ہوگئی ۔ وارثان زید کا اس میں کچھ حق نہ رہا، نہ ان کا دعوٰی مسموع ہوسکتا ہے ۔ وہ صرف حق وارثان عورت ہے ۔ فان التملیک ان کان بیعا فظاہر وان کان ہبۃ فقد تمت بالتقسیم والقبض و لزمت بالموت” (فتاوی رضویہ ج ٨ص۴٩ ، ۵٠) اور اگر زید نے اپنی اس پراپرٹی کو اپنے بیٹے عمر کی بیوی کے قبضہ میں نہ دیا ہو تو زید کا یہ ہبہ باطل ہے ۔ اور اس پراپرٹی میں اس کے دوسرے بیٹے خالد اور دوسرے وارثین کا بھی حصہ ہوگا۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا، مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا پس ان صورتوں میں وہ جائداد ملکِ پِدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسبِ فرائض اس سے حصہ پائیں گے ۔ فان موت الواہب قبل التسلیم یبطل الہبة، کما فی الدر المختار”(فتاوی رضویہ ج ٨ص۵۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ءAlimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi Basti
وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9