صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1523 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,920

سوال (Question):

زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کی کیا بیت المال، صدقہ و زکوۃ کی رقم سے دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے اسکول کی زمین خریدنا درست ہے اور تعمیر اسکول بھی درست ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ زکاۃ و صدقہ کی رقم کے اصل حقدار فقیر اور مسکین مسلمان ہیں. قرآن پاک میں ہے ” انما الصدقت للفقراء و المساکین” ( پارہ 10 رکوع 14 آیت 60) تو زکوۃ انہیں کو دینے سے ادا ہوگی اور دوسرے کو دینا ناجائز و گناہ ہے اس لئے کسی بھی اسکول میں زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں اور نہ ہی اسکول میں دینے سے زکوۃ ادا ہوگی. دینی مدرسہ میں جو زکات کی اجازت فقہاء کرام نے دی ہے تو وہ ضرورت شرعیہ کے تحت دی ہے. فقہ کا قاعدہ کلیہ ہے ” الضرورات تبیح المحظورات ،الحاجۃ قد تنزل منزلۃ الضرورۃ، المشقۃ تجلب التیسیر” ١ھ. اور اسکول میں ضرورت شرعیہ کیا حاجت شرعیہ بھی نہیں پائی جاتی. لہذا زکوۃ و صدقات کی رقم کسی بھی دنیاوی اسکول میں دینے سے ہرگز ادا نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے زمین خریدنا اور اس سے اسکول کی تعمیر کرنا جائز ہے. البتہ بیت المال کی رقم جو زکوۃ صدقہ فطر نیز کسی اور صدقہ واجبہ کی نہ ہو بلکہ چندے اور عطیہ کی رقم ہو جس کا مصرف قومی اور ملی فلاح و بہبود کے کام ہوں تو اس سے اسکول کی زمین خریدنا اور تعمیر کرنا جائز ہے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh