صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2668 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

زید نے اپنی بیوی کو تین مہینے میں تین طلاق دی تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,881

سوال (Question):

زید نے اپنی بیوی کو تین مہینے میں تین طلاق دی تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

زید نے اپنی بیوی کو تین مہینے میں تین طلاق دی تو کیا طلاق ہوئی یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو پہلے مہینے میں ایک طلاق دی اس کے بعد ان دونوں نے رجوع نہیں کیا پھر دوسرے مہینے میں دوسری طلاق دی اور تیسرے مہینے میں تیسری طلاق دی۔ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں کیونکہ لڑکی جس کو طلاق دی وہ اور اسکے اپنے کچھ لوگ اس بات سے انکار کررہے ہیں کہ ایسے طلاق نہیں ہوتی بغیر گواہوں کے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاند کی بیس تاریخ کے بعد اگر لکھ کر دو گے تبھی طلاق واقع ہوگی۔المستفتی:۔ عمر فاروق ڈنی دہار راجوری

باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب

صورت مسؤلہ میں زید کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی لیکن تفصیل اس بارے میں یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوں گی۔ اگر بیوی کی عدت تین حیض مکمل ہونے سے پہلے دوسری اور تیسری طلاق دی تو تینوں واقع ہوگئیں عورت بحرمت غلیظہ شوہر پر حرام ہوگئی بغیر حلالہ کے اس کے لیے حلال نہیں۔ اور اگر عدت مکمل ہونے کے بعد دوسری یا تیسری طلاق دی تو وہ واقع نہ ہوگی کیونکہ پہلی ہی سے عورت نکاح سے نکل گئی باقی کی محل ہی نہ رہی اس صورت میں عورت اگر رضا مند ہو زید اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔واضح رہے کہ امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک کم از کم وہ مدت جس میں عدت گزرنے کے بارے میں عورت کا بیان معتبر ہے ساٹھ دن ہے اور صاحبین کے نزدیک انتالیس دن ہے۔ لہذا اگر عورت اگر دعوی کرے کہ تیسری طلاق سے پہلے عدت گزرچکی تھی اور پہلی طلاق کے بعد ساٹھ دن گزر بھی چکے ہوں تو عورت کا بیان معتبر ہوگا اور اس پر تیسری طلاق نہ ہوگی اور اس صورت میں دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ فتاوی رضویہ میں اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے: “عورت کو تین حیض شروع ہوکر ختم ہو چکے تو یہ تین طلاقیں نہ ہوئیں لفوات المحل بالبینونة عورت اسی پہلی طلاق پر نکاح سے نکل گئی اب بلا حلالہ اس سے نکاح جدید کرسکتا ہے اور اگر اس پانچ چھ مہینے میں تین حیض آکر ختم نہ ہوئے تو اب تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا”(ج ۵ ص ٦٢٩) رہا “لڑکی اور اس کے گھر والوں کا یہ کہنا کہ بغیر گواہوں کے طلاق نہیں ہوتی اور چاند کی بیس تاریخ کے بعد اگر لکھ کر دو گے تبھی طلاق ہوگی” یہ سب جہالت کی باتیں ہیں طلاق کے لیے نہ ہی گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تاریخ مخصوص ہے۔ والله تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ٢٤/صفر المظفر ١٤٤٤٥ھ مطابق ١١/ستمبر ٢٠٢٣ء الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh