صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2540 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سات سو چھیاسی (۷۸۶) لکھنا نیز حروف کے عدد نکالنا شرعاً ثابت ہے کہ نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,352

سوال (Question):

سات سو چھیاسی (۷۸۶) لکھنا نیز حروف کے عدد نکالنا شرعاً ثابت ہے کہ نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سات سو چھیاسی (۷۸۶) لکھنا نیز حروف کے عدد نکالنا شرعاً ثابت ہے کہ نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین 786 کا لکھنا درست ہے کہ نہیں؟ اور کیا قرآن یا احادیث سے اعداد نکالنے کا ثبوت ہے؟؟ پیش فرمائیں معترض کا کہنا ہے کہ یہ قرآن میں تحریف ہے،اور اگر جائز ہے 786 ، اور اس سے مراد تسمیہ ہے تو کیا ہرکام سے پہلے 786 بولنے سے تسمیہ ادا ہوجائے گا؟ کیوں نہیں ادا ہوگا؟ عقلی و نقلی جواب سے نوازیں کرم ہوگا۔ سـائل : عمـر فاروق کشی نگـر بسـم اللـہ الرحـمٰن الرحـیم

الجــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب

(٧٨٦) لکھنا بالکل جائز و درست ہے۔اور زمانہ قدیم ہی سے لوگ ان اعداد سے استفادہ حاصل کرتے آئیں ہیں۔ اور آیت قرآنی و احادیث سے بھی اعداد جمع کیے جاتے اور اُنسے برکت بھی حاصل کی جاتی۔ اور حرف قرآن و احادیث سے اعداد نکالنے کا دلیل و ثبوت ہے۔ جیسا کہ شرع تفسیرالبیضاوی میں ہے کہ، ابوالعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بتایا کہ نبی پاک ﷺ کے پاس یہودیوں کا ایک وفد حاضر ہوا (اور کلام مجید سننے کا مطالبہ کیا تو) آپ ﷺ نے ان کے سامنے سورۃ البقرہ تلاوت فرمائی انہوں نے الم کے حروف -کے اعداد سے حساب لگا کر کہا کہ ہم اس دین کو کیسے قبول کریں جس کی مدت بقا صرف اکہتر (71) سال ہے۔ان کا یہ استدلال دیکھ کر نبی کریم ﷺ مسکراۓ تو انہوں نے عرض کیا کہ ان کے علاوہ بھی اگر کچھ حروف ہیں تو وہ بھی بیان کیجئے تو آپ نے ان کو ،المصٓ المٓر الرٓ پڑھ کر سناۓ یہ سنتے ہی یہودی بول اٹھے کہ آپ نے تو ہم پر اپنے ( دین کا معاملہ خلط ملط کر دیا اب ہمیں نہیں معلوم کہ ہم آپ کی کون سی بات کو اختیار کریں ( اور بڑ بڑاتے ہوئے چلے گئے) نبی کریم ﷺ کا اس طرح ان حروف کو ترتیب سے پڑھنا اور ان کے استنباط پر انہیں برقرار رکھتے ہوۓ خاموشی اختیار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان حروف سے قوموں کی مدت بقاء اور ان کی عمروں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ، (شرح تفسیر البیضاوی صفحہ (۹۷) مکتبہ اکبر بک سیلرز لاہور) اور فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ،اسلاف کرام اور بزرگان دین کا یہ طریقہ رہا کہ وہ جب بھی کچھ لکھتے یا کتاب وغیرہ تصنیف کرتے تو تبرکا اسے اللہ و رسول کے نام سے شروع کرتے۔اللہ تعالی کی حمد بیان کرنے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر درودوسلام بھیجتے مگر بعد میں بے ادبی،سے بچانے کے لئے جس طریقے سے خط وغیرہ کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بجاۓ ان کے اعداد (٦٨٧) کے لکھنے کا رواج تبرکا ہوا اسی طرح ۹۲ اور ۹۱۷ کے لکھنے کی بھی ابتداء ہوئی ۔ پھر جس جگہ بے ادبی کا اندیشہ نہیں وہاں بھی لوگ لکھنے لگے ۔اور جو چیز تبرکا لکھی جاتی ہے وہ ضروری نہیں ہوتی ۔لہٰذا بسم الله الرحمن الرحیم کا عدد ۷۸۲ لکھنے کے بعد ۹۲ یا ۹۱۷ لکھنا ضروری نہیں۔صرف جائز و مستحسن ہے، (فتاوی فقیہ ملت جلد ١؂ باب الصدقۃ الفطر صفحہ (۳۲۸) مکتبہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور) لہٰذا مذکورہ بالا عبارات و حوالاجات سے معلوم ہوا کہ۔ ۷۸۶ لکھنا جائز ہے ،اور اعداد نکالنا قرآن و احادیث شریفہ سے جائز و درست ہے جس کا ثبوت و دلیل مذکورہ شرح تفسیر البیضاوی ،اور ہر کام سے پہلے ۷۶۸ بولنے سے تسمیہ ادا ہو جائےگی یا نہی تو۔ بہتر و مناسب یہی ہے ۷۸۶ بولنے کے بجائے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہی پڑھیں۔ اور جیسی جس کی نیت اُسکی ویسا ہی حکم۔ مشہور و معروف صحیح بُخاری کی حدیث ہے انما الاعمال بالنیاد وانمالکل امری مانوی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ۔ رسول اللہﷺ فرماتے تھے کہ ،اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے ،اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اُسکی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ (صحیح بُخاری جلد ۱؂ کتاب الوحی صفحہ۔ (۱۵۰) مکتبہ مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند) واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب کتبـــــہ:محمد ارباز عالم نظــــــامی ترکپٹی کوریاں کشی نگر یوپی الھـــــــــند

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh