صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1005 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ساس اور سسر کو ماں باپ کہنا کیسا ہے؟ / مسائل ورلڈ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,917

سوال (Question):

ساس اور سسر کو ماں باپ کہنا کیسا ہے؟ / مسائل ورلڈ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ساس اور سسر کو ماں باپ کہنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ تمام علماء کرام مفتیان کرام کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ ساس اور سسر کو ماں باپ کہہ کے بلانا کیسا تفصیلی و تحریری جواب عطا فرما دیجیے عاشق اعلی حضرت پاکستان وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب ساس اور سسر کو ماں باپ کہہ کر بلا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیساکہ حکیم الامت مفتی احمدیار خان علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے چار باپ ہوتے ہیں:ایک تو نسبی باپ، دوسرے اپنا سسر، تیسرے اپنا استاد،چوتھے اپنا پیر۔ اگر تم نے اپنے سسر کو بُراکہا تو سمجھ لو کہ اپنے باپ کو برا کہا, حضورﷺ نے فرمایا ہے : کہ بہت کامیاب شخص وہ ہے جس کی بیوی بچے اس سے راضی ہوں . ((اسلامی زندگی، ص,۶۸ ۶۹,مکتبتہ المدینہ، دعوت اسلامی)) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : اسیر حضور تاج الشریعہ محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری بانئ سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh