صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2129 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سب سے پہلاگستاخ {وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ} کی تفسیر

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,610

سوال (Question):

سب سے پہلاگستاخ {وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ} کی تفسیر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سب سے پہلاگستاخ {وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ} کی تفسیر

ترجمہ کنزالایمان :اور (یاد کرو)جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ ترجمہ ضیاء الایمان : اے حبیب (ﷺ) یادکرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیاکہ آدم کو تعظیمی سجدہ کرو توسب نے سجدہ کیاسوائے ابلیس کے ، وہ منکرہوااورغرورکیااورکافرہوگیا۔ اللہ تعالی نے حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو زمین میں اپناخلیفہ بنایا، فرشتوں پر ان کاعلمی تفوق ظاہرفرمایا، اب خلافت کاکام سرانجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ زمین میں موجود تمام مخلوق ان کی ماتحتی کو قبول کریں ، ان کی اطاعت کریں ، اس وقت زمین میں ذی عقل دوہی مخلوقیں تھیں ایک فرشتے اوردوسرے جن ۔

فرشتے جنات سے افضل ہیں ۔

اللہ تعالی نے حضرت سیدناآدم علیہ السلام کوعلم عطافرمانے کے بعد جب ملائکہ کرام کو حکم دیاکہ ان کو سجدہ کرو تو شیطان نے انکارکردیا۔ اس آیت کے تحت ہم تین چیزیں بیان کریں گے :(۱) اللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام کی تعظیم کے منکرکاحکم (۲) انبیاء کرام علیہم السلام اوران کے نائبین یعنی علماء کرام کی سیاست کے منکرین کاحکم ۔(۳) چونکہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو علم کی وجہ سے فضیلت دی گئی اس لئے شیطان بھی آپ علیہ السلام کادشمن بنا۔جتنے بھی علماء کرام کے ان کے علم کی وجہ سے دشمن ہیں ان کاشرعی حکم ۔

حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی تعظیم کرنے کی برکت

وأول من سجد منہم :جبریل، فأکرم بإنزال الوحی علی النبیین، وخصوصا علی سید المرسلین، ثم میکائیل، ثم إسرافیل، ثم عزرائیل، ثم سائر الملائکۃ، وقیل:أول من سجد:إسرافیل، فرفع رأسہ، وقد ظہر کل القرآن مکتوبا علی جبہتہ کرامۃ لہ علی سبقہ إلی الائتمار. ترجمہ :الشیخ العلامۃ محمد الأمین بن عبد اللہ الأرمی العلوی الہرری الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ سب سے پہلے جس نے سجدہ کیاوہ حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام ہیں ، اسی لئے اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کویہ اعزاز دیاکہ وہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر وحی لیکر آتے تھے اورخصوصاً سید المرسلین امام الانبیاء حضور تاجدارختم نبوت ْﷺ کی خدمت اقدس میں بھی وحی آپ ہی لیکر آتے تھے ۔ اورپھرحضرت سیدنامیکائیل علیہ السلام اورپھرحضرت سیدنااسرافیل علیہ السلام پھرحضرت سیدناعزرائیل علیہ السلام نے سجدہ کیااوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ سب سے پہلے حضرت سیدنااسرافیل علیہ السلام نے سجدہ کیا، پھرجب انہوں نے اپناسرسجدے سے اٹھایاتو اللہ تعالی نے ان کی پیشانی پر قرآن کریم لکھ دیایہ صرف اورصرف برکت تھی حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی تعظیم کرنے کی ۔ (تفسیر حدائق الروح والریحان:الشیخ العلامۃ محمد الأمین الأرمی العلوی الہرری الشافعی(۱: ۳۰۹)

نبی علیہ السلام کی تعظیم کرنے پر انعام

عَن عمر بن عبد الْعَزِیز قَالَ:لما أَمر اللہ الْمَلَائِکَۃ بِالسُّجُود لآدَم کَانَ أول من سجد إسْرَافیل فأثابہ اللہ أَن کتب الْقُرْآن فِی جَبہتہ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ جب اللہ تعالی نے ملائکہ کرام علیہم السلام کو حکم دیاکہ وہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو سب سے پہلے حضرت سیدنااسرافیل علیہ السلام نے سجدہ کیا تواللہ تعالی نے ان کو یہ اجردیاکہ ان کی مبارک پیشانی پر قرآن کریم لکھ دیا۔ (تاریخ دمشق:أبو القاسم علی بن الحسن بن ہبۃ اللہ المعروف بابن عساکر (۷:۳۹۸) حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو سجدہ شکر کرنے کی وجہ ؟ قلت لعلہم انما أمروا بتعظیم آدم شکرا لہ وأداء لحقہ فی التعلیم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم- من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔ ترجمہ :حضرت سیدناقاضی ثناء اللہ حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں کہتاہوں کہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی تعظیم کاحکم جو دیاگیاتھاتواس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام نے جوانہیں اسماء الہی کی تعلیم دی توبطورشکراورادائے حق انہیں حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی تعظیم کاحکم ہواکیونکہ رسول اللہ ﷺکافرمان عالی شان ہے کہ جو شخص لوگوں کاشکرادا نہیں کرتاوہ اللہ تعالی کاشکربھی نہیںادا کرتا۔ (التفسیر المظہری:المظہری، محمد ثناء اللہ(۱:۵۶) اس سے معلوم ہواکہ جو شخص کسی استاد سے علم دین حاصل کرے اس کاادب بجالانااس پر لازم ہے ۔مگرآجکل لوگ علم پڑھ کر شیخ اورپیرجسے مانتے ہیں اسی کاادب واحترام اورانہیں کے ساتھ قلبی لگائو رکھتے ہیںاوروہ استاد جس نے اسے علم فقہ ، حدیث اورتفسیر پڑھایااس کے ساتھ تعلق بھی ختم ہوجاتاہے ۔ نعوذ باللہ ۔ پہلامسئلہ شیطان کاحضرت سیدناآدم علیہ السلام کی گستاخی کرنااوراس کو سزاملنا قالوا لما سجد الملائکۃ امتنع إبلیس ولم یتوجہ الی آدم بل ولاہ ظہرہ وانتصب ہکذا الی ان سجدوا وبقوا فی السجود مائۃ سنۃ وقیل خمسمائۃ سنۃ ورفعوا رؤسہم وہو قائم معرض لم یندم من الامتناع ولم یعزم علی الاتباع فلما رأوہ عدل ولم یسجدوہم وفقوا للسجود سجدوا للہ تعالی ثانیا فصار لہم سجدتان سجدۃ لآدم وسجدۃ للہ تعالی وإبلیس یری ما فعلوہ وہذا اباؤہ فغیر اللہ تعالی صفتہ وحالتہ وصورتہ وہیئتہ ونعمتہ فصار أقبح من کل قبیح قال اللہ تعالی إِنَّ اللَّہَ لا یُغَیِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا ما بِأَنْفُسِہِمْ قال بعضہم جعل ممسوخا علی مثال جسد الخنازیر ووجہہ کالقردۃ۔ ترجمہ :امام اسماعیل حقی بن مصطفی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ جب ملائکہ کرام علیہم السلام حضرت سیدناآدم علیہ السلام کے لئے سجدہ میں گرگئے تو شیطان نے حضرت سیدناآدم علیہ السلام سے منہ پھیرلیااورآپ علیہ السلام کی طرف پیٹھ کرلی ، یہاں تک کہ وہ سجدے سے فارغ ہوئے اوروہ سجدہ میں ایک سوسال تک رہے ، بعض روایات میں پانچ سوسال کاذکرموجود ہے ۔جب انہوںنے سراٹھاکردیکھاتوشیطان کھڑاتھابلکہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو پیٹھ کرکے کھڑاہواتھااوراپنے اس فعل اورگستاخی پرشرمندہ بھی نہیں تھابلکہ الٹااس پر عزم بالجزم کئے ہوئے تھاتواس کے سجدہ نہ کرنے اوراپنے سجدہ کرنے کے شکر میں ملائکہ کرام نے ایک سجدہ اورکردیا، اس طرح ان کے دوسجدے ہوگئے ایک حضرت سیدناآدم علیہ السلام کے لئے اوردوسرارب تعالی کے لئے ، جب یہ سجدہ کررہے تھے توشیطان دیکھ رہاتھا، اس کے بعد اللہ تعالی نے اس کی صفت ، حالت ، صورت ، ہئیت ، نعمت سب کو بدل دیاجیساکہ اللہ تعالی کافرمان عالی شان ہے کہ بے شک اللہ تعالی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔ جب اللہ تعالی نے اس کی شکل کو مسخ کیاتو اس کاجسم خنزیر جیسااورمنہ بندرجیسابنادیا۔ (روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۱: ۸۹) شیطان نے حضرت سیدناآدم علیہ السلام کے مزارکی تعظیم کرنے سے انکارکردیا حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ:قَالَ:وَلَقِیَ إِبْلِیسُ مُوسَی فَقَالَ:یَا مُوسَی أَنْتَ الَّذِی اصْطَفَاکَ اللَّہُ بِرِسَالَتِہِ، وَکَلَّمَکَ تَکْلِیمًا، وَأَنَا مِنْ خَلْقِ اللَّہِ أَذْنَبْتُ، وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أَتُوبَ، فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَتُوبَ عَلَیَّ، فَدَعَا مُوسَی رَبَّہُ فَقِیلَ یَا مُوسَی قَدْ قَضَیْتُ حَاجَتَکَ، فَلَقِیَ مُوسَی إِبْلِیسَ، فَقَالَ:قَدْ أُمِرْتَ أَنْ تَسْجُدَ لِقَبْرِ آدَمَ وَیُتَابَ عَلَیْکَ، فَاسْتَکْبَرَ وَغَضِبَ،وَقَالَ:لَمْ أَسْجُدْ لَہُ حَیًّا، أَأَسْجُدُ لَہُ مَیِّتًا؟۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ شیطان ایک مرتبہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام سے ملااورکہنے لگاکہ آپ تووہ ہیں کہ جسے اللہ تعالی نے اپنے پیغامات کے لئے چن لیاہے اورجب آپ نے اللہ تعالی کی طرف رجوع کیاتو اس نے آپ کے ساتھ کلام کیا، میں اب توبہ کرناچاہتاہوں ، آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کریں اورمیری سفارش کریں کہ وہ میری توبہ قبول فرمائے ۔ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے فرمایا:ٹھیک ہے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کروں گا۔ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی : تواللہ تعالی نے فرمایا:اے موسی ! تم نے اپناکام پوراکردیا۔ پھرحضرت سیدناموسی علیہ السلام کے سامنے جب شیطان آیاتو آپ نے اسے فرمایامجھے حکم دیاگیاہے کہ توحضرت سیدناآدم علیہ السلام کی قبرمبارک کو سجدہ کرتیری توبہ قبول ہوجائے گی ۔ یہ سنتے ہی شیطان نے تکبرکیااورغصے سے بپھرگیا۔اوراس نے کہا: جب وہ زندہ تھے تو میں نے سجدہ نہیں کیااب کیسے کرلوں؟۔ (مکائد الشیطان:أبو بکر عبد اللہ بن محمد بن عبید بن سفیان المعروف بابن أبی الدنیا :۶۵) حضرت سیدنانوح علیہ السلام کے سامنے انکارکردیا حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:لَمَّا رَکِبَ نُوحٌ السَّفِینَۃَ جَاء َ إِبْلِیسُ فَتَعَلَّقَ بِالسَّفِینَۃِ وَقَالَ:مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ:إِبْلِیسُ، قَالَ:مَا جَاء َ بِکَ؟ قَالَ:جِئْتُ لِتَسْأَلَ لِی رَبَّکَ، ہَلْ لِی مِنْ تَوْبَۃٍ؟ قَالَ: فَأَوْحَی اللَّہُ إِلَیْہِ أَنَّ تَوْبَتَہُ أَنْ یَأْتِیَ قَبْرَ آَدَمَ فَیَسْجُدُ لَہُ، فَقَالَ:أَنَا لَمْ أَسْجُدْ لَہُ حَیًّا وَأَسْجُدُ لَہُ مَیِّتًا، فَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالَی: أَبی وَاسْتَکْبَرَ وَکانَ من الْکافِرِینَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنانوح علیہ السلام جب کشتی میں سوارہوئے تو شیطان آگیا۔ حضرت سیدنانوح علیہ السلام نے اس سے پوچھاکہ تم کون ہو؟ تواس نے کہا: میں شیطان ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے پوچھاکہ توکیسے آیاہے؟ تواس نے کہاکہ آپ اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کروکہ میری توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ اللہ تعالی نے حضرت سیدنانوح علیہ السلام کو فرمایاکہ اس کی توبہ صرف اورصرف ایک صورت میں قبول ہوسکتی ہے کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کی قبرمبارک کو سجدہ کرلے ۔ شیطان نے کہا: جب وہ زندہ تھے تو میں نے سجدہ نہیں کیااب کیسے کرلوں۔؟؟پس اسی وجہ سے وہ کافرہوگیا۔ (المنتظم فی تاریخ الأمم والملوک:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (ا:۲۴۱) گستاخ گستاخ ہی رہتاہے وفی الخبر قیل لہ من قبل الحق اسجد لقبر آدم أقبل توبتک واغفر معصیتک فقال ما سجدت لقالبہ وجثتہ فکیف اسجد لقبرہ ومیتتہ وفی الخبر ان اللہ تعالی یخرجہ علی رأس مائۃ الف سنۃ من النار ویخرج آدم من الجنۃ ویأمرہ بالسجود لآدم فیأبی ثم یرد الی النار وَکانَ مِنَ الْکافِرِینَ ۔ ترجمہ:حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن شیطان کو ایک ہزار سال دوزخ میں رکھ کرعذاب دینے کے بعد نکال کرحکم فرمائے گاکہ اب توحضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرلے تو شیطان اس وقت بھی انکارکردے گا، پھراسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں ڈال دیاجائے گا۔ (تفسیر حدائق الروح : الشیخ العلامۃ محمد الأمین بن عبد اللہ الأرمی العلوی الہرری الشافعی(۱: ۳۱۱)

حضرت آدم علیہ السلام کے گستاخ کوذلیل کرنے کابہت بڑانسخہ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَۃَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّیْطَانُ یَبْکِی، یَقُولُ:یَا وَیْلَہُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَیْتُ فَلِیَ النَّارُ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب ابن آدم آیت سجدہ تلاوت کرکے سجدہ کرتاہے توشیطان دورکھڑاہوکر روتاہے اورکہتاہے کہ ہائے اس کی خرابی کہ ابن آدم کو حکم ہواسجدہ کرنے کااس نے کرلیااوراپنے رب کی بات مان لی اوریہ جنت کامالک بن گیااورمجھے حکم ہوامیں نے نافرمانی کی پس میرے لئے آگ ہے ۔ (صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۱:۸۷) اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے دشمن اوررسل عظام علیہم السلام کے دشمن کو ذلیل کرنارسول اللہ ﷺکی سنت ہے ۔ اوررسول اللہ ﷺیہی چاہتے ہیں کہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کاگستاخ ذلیل ہوتارہے۔

شیطان اوریہودی

قال الشَّیْخُ أَبُو الْحَسَنِ الْأَشْعَرِیُّ وَغَیْرُہُ وَذَہَبَ الطَّبَرِیُّ إِلَی أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَرَادَ بِقِصَّۃِ إِبْلِیسَ تَقْرِیعَ أَشْبَاہِہِ مِنْ بَنِی آدَمَ، وَہُمُ الْیَہُودُ الذی کَفَرُوا بِمُحَمَّدٍ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَعَ عِلْمِہِمْ بِنُبُوَّتِہِ، وَمَعَ قِدَمِ نِعَمِ اللَّہِ عَلَیْہِمْ وَعَلَی أَسْلَافِہِمْ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی نقل فرماتے ہیںکہ امام الشیخ ابولحسن الاشعری رحمہ اللہ تعالی نے فرمایاکہ امام الطبری رحمہ اللہ تعالی کایہ خیال ہے کہ اللہ تعالی کاشیطان کے واقعہ سے انسان میں جو شیطان کے مشابہ ہیں انہیں تنبیہ کرنامقصود ہے اوروہ یہودی ہیں ، جنہوںنے رسول اللہ ﷺکی نبوت کاانکارکیاحالانکہ وہ جانتے تھے کہ محمدﷺ اللہ تعالی کے سچے نبی ہیں اوران نعمتوں کو بھی جانتے تھے جو اللہ تعالی نے ان پر اوران کے اسلاف پر کی تھیں ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۱: ۲۹۱) اس سے ثابت ہواکہ یہودی شیطان کے پیروکار ہیں اوراسی طرح نصاری اورلبرل طبقہ جو رسول اللہ ﷺکی نبوت شریفہ کوجانتے ہوئے انکارکرتے ہیں یہ بھی شیطان کے پیروکارہیں۔ خداورسول ﷺکے حکم کو باطل قراردینے والاکافرہے فَکَفَّرَہُ اللَّہُ بِذَلِکَ فَکُلُّ مَنْ سَفَّہَ شَیْئًا مِنْ أَوَامِرِ اللَّہِ تَعَالَی أَوْ أَمْرِ رَسُولِہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ حُکْمُہُ حُکْمَہُ، وَہَذَا مَا لَا خِلَافَ فِیہِ۔ ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی : ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ حضرت سیدناآدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی نے شیطان کو کافرقراردیا، پس جو شخص اللہ تعالی کے کسی حکم کو یارسول اللہ ﷺکے کسی حکم شریف کو باطل قراردیتاہے تواس کاحکم بھی یہی ہے یعنی وہ بھی کافرہے اور ایسے شخص کے کافرہونے میں کسی کاکوئی اختلاف نہیں ہے ۔ (تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۱: ۲۹۱) دوسرامسئلہ چونکہ شیطان نے حضرت سیدناآدم علیہ السلام کی تعظیم کاانکارکیااورحضرت سیدناآدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے علم کی دولت سے مالامال فرمایاتوعلم کی وجہ سے کسی کادشمن بن جانایہ شیطان کاطریقہ کارہے اورسب سے پہلی دشمنی علم کی وجہ سے ہوئی اوروہ دشمن شیطان تھا۔ لھذاآج بھی کوئی اگرعالم دین کادشمن ہے تو وہ یہ یقین کرلے وہ شیطان کاجانشین ہے۔ حضرت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ علماء کرام دین مصطفی ﷺکے محافظ اور چوکیدارہیں۔ چورپہلے چوکیدارپر ہی حملہ کرتاہے کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے وہ چوری نہیں کرسکتا، اس لئے آج جوبھی بے دین اٹھتاہے وہ علماء کرام پر لعن طعن کرتاہی اٹھتاہے کیونکہ وہ سمجھتاہے کہ ان کی موجودگی میں ہم دین مصطفی ﷺمیں چوری نہیں کرسکتے مگریاد رہے چوکیدارپر شہنشاہ کاہاتھ اوراس کی پشت پر ساراسلطانی عملہ ہوتاہے ۔ اسی طرح علماء کرام پر مصطفی کریمﷺ کاہاتھ ہے اورملائکہ کرام علیہم السلام ان کی حمایت پر ہیں ، اسی لئے بڑی بڑی طاقتیں جیسے خاکساری ، نیچری وغیرہ علماء سے ٹکرائیں پاش پاش ہوگئیں ۔ علماء کرام کے اقبال ووقار میں بفضلہ تعالی کوئی فرق نہیں آیا ۔ علماء کرام پر بھی لازم ہے کہ دین حق کی خدمت کو اپنامقصد قراردیں۔ (تفسیر نعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی (۱: ۱۷۹)

مجلس دینی میں بیٹھنے والاکافرکیسے ہوگیا؟

قَالَ شَقِیقٌ الْبَلْخِیُّ: النَّاسُ یَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسِی عَلَی ثَلَاثَۃِ أَصْنَافٍ: کَافِرٌ مَحْضٌ، وَمُنَافِقٌ مَحْضٌ، وَمُؤْمِنٌ مَحْضٌ، وَذَلِکَ لِأَنِّی أُفَسِّرُ الْقُرْآنَ فَأَقُولُ عَنِ اللَّہِ وَعَنِ الرَّسُولِ فَمَنْ لَا یُصَدِّقُنِی فَہُوَ کَافِرٌ مَحْضٌ، وَمَنْ ضَاقَ قَلْبُہُ مِنْہُ فَہُوَ مُنَافِقٌ مَحْضٌ، وَمِنْ نَدِمَ عَلَی مَا صَنَعَ؍ وَعَزَمَ عَلَی أَنْ لَا یُذْنِبَ کَانَ مُؤْمِنًا مَحْضًا۔ ترجمہ:امام محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ امام شقیق البلخی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میری مجلس شریف میں لوگ آتے ہیں جب اٹھ کرجاتے ہیں تو اس وقت تین قسم کے ہوجاتے ہیں : (۱) کافرمحض (۲) مومن محض (۳)منافق محض یہ اس لیے ہوتاہے کہ میں جب قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے اللہ تعالی اوراس کے رسول ﷺکافرمان شریف پڑھتاہوں توجوتصدیق نہ کرے وہ کافرمحض بن جاتاہے اورجس کاسن کردل تنگ ہووہ منافق محض یعنی خالص منافق ہوجاتاہے اورجومجھ سے قرآن کریم کی تفسیر سن کر شرمندہ ہوجائے اورآئندہ گناہ نہ کرنے کاعہد کرلے وہ مومن محض ہوجاتاہے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲:۴۰۲) اس سے معلوم ہواکہ آج کتنے ہی لوگ ہیں جو محافل دینی میں طوعاً وکرہاً آتے ہیں اورآکر علماء کرام کی طرف سے کی جانے والی گفتگوکے متعلق بکواس کرتے ہیں کہ یہ ان کی اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں ۔ اب آپ خود غورکریں کہ مکے کاکافریہ کہے تو کافرہوجائے کہ یہ کلام یعنی قرآن کریم رسول اللہ ﷺنے خود بنالیاہے توآج کامسلمان اگریہ کہے کہ دین مولویوں نے اپنابنالیاہے یہ کیسے مسلمان رہ سکتاہے ؟ اسی طرح ناموس رسالت ﷺکے مسئلہ کے متعلق پاکستان کابہت بڑاطبقہ یہی کہتاہے کہ اسلام میں ایسانہیں ہے کہ کوئی گستاخی کرے تو اس کو قتل کردو، یہ ذہن میں رہے جو شخص رسول اللہ ﷺکے گستاخ کی شرعی سزاکامنکرہے وہ ضروریات دینی کے انکارکی وجہ سے کافرہوچکاہے چاہے وہ نمازیں پڑھتارہے یاپیربنارہے ۔

جس نے عالم دین کی توہین کی ۔۔۔

قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی طَلَبِ الْعِلْمِ، حَرَّمَ اللَّہُ جَسَدَہُ عَلَی النَّارِ، وَاسْتَغْفَرَ لَہُ مَلَکَاہُ وَإِنْ مَاتَ فِی طَلَبِہِ مَاتَ شَہِیدًا، وَکَانَ قَبْرُہُ رَوْضَۃً مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ، وَیُوَسَّعُ لَہُ فِی قَبْرِہِ مَدَّ بَصَرِہِ، وَیُنَوَّرُ عَلَی جِیرَانِہِ أَرْبَعِینَ قَبْرًا عَنْ یَمِینِہِ وَأَرْبَعِینَ قَبْرًا عَنْ یَسَارِہِ، وَأَرْبَعِینَ عَنْ خَلْفِہِ، وَأَرْبَعِینَ أَمَامَہُ، وَنَوْمُ الْعَالِمِ عِبَادَۃٌ، وَمُذَاکَرَتُہُ تَسْبِیحٌ، وَنَفْسُہُ صَدَقَۃٌ، وَکُلُّ قَطْرَۃٍ نَزَلَتْ مِنْ عَیْنَیْہِ تُطْفِئُ بَحْرًا مِنْ جَہَنَّمَ فَمَنْ أَہَانَ الْعَالِمَ فقد أَہَانَ اللَّہَ أَہَانَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کے قدم طلب ِعلم میں خاک آلود ہوں گے اللہ تعالی اس کے جسم کو آگ پر حرام کردے گا اوراس پر مقرردونوں فرشتے اس کے لئے استغفارکریں گے ۔ اگرطلب ِعلم کے دوران ہی وہ فوت ہوجائے تو شہید لکھاجائے گا، اس کی قبرروضۃ من ریاض الجنۃ یعنی جنت کے باغوں میں سے باغ بنادی جاتی ہے ۔ اوراس کی قبرتاحدنگاہ وسیع کردی جاتی ہے اوراس کی قبرکے پڑوس دائیں بائیں اورآگے پیچھے چالیس چالیس قبریں منور کردی جاتی ہیں۔ عالم دین کی نیندعبادت اوراس کامذاکرہ کرناتسبیح ، اس کاسانس لیناصدقہ ہے ، اس کی آنکھ کاایک ایک قطرہ دوزخ کی آگ کو بجھاسکتاہے ۔ پس جس نے عالم دین کی توہین کی اس نے علم کی توہین کی ، جس نے علم کی توہین کی اس نے اللہ تعالی کے نبی ْﷺکی توہین کی اورجس نے نبی ﷺکی توہین کی اس نے جبریل امین علیہ السلام کی توہین کی اورجس نے جبریل امین علیہ السلام کی توہین کی اس نے اللہ تعالی کی توہین کی اوراللہ تعالی ایسے شخص کو قیامت کے دن ذلیل ورسوافرمادے گا۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲:۴۰۲)

وہ اسکالرجو دین کو لبرل ازم سے ملادیں

وَمِنَ الْعُلَمَاء ِ مَنْ یَتَعَلَّمُ کَلَامَ الْمُبْطِلِینَ فَیَمْزُجُہُ بِالدِّینِ فَہُوَ فِی الدَّرْکِ السَّادِسِ مِنَ النَّارِ۔ ترجمہ :امام محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ علماء جو ملحدین اورلبرل طبقہ کاکلام سیکھ کر دین سے ملادیں وہ دوزخ کے چھٹے طبقے میں جائیں گے ۔ (التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۲:۴۰۲) اس سے معلوم ہواکہ جو مذہبی شخصیات دین مبارک میں لبرل ازم گھسیڑنے کے چکر میں یاقرآن کریم اورحدیث شریف کی تفسیروتشریح سائنس کی روشنی میں کررہے ہیں اورکرتے کرتے الحاد کی کھائی میںجاگرتے ہیں یاان کی وجہ سے لوگ الحاد کاشکارہورہے ہیں ایسے تمام لوگوں کواس سے عبرت پکڑنی چاہئے ۔ اس مضمون کے تحت ہم مزیدکچھ لکھنالازمی جانتے ہیں تاکہ پتاچلے آجکل کے جو دین دشمن ہیں وہ کس طرح اپنی دشمنی کازہراگلتے ہیں ۔

حاملینِ قرآن وحدیث کی دشمنی کے پس پردہ راز کاانکشاف

رسول اللہ ﷺسے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو محبت تھی، اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ آپﷺ کی صحبت مبارکہ سے فیض یاب ہوتے رہے، ان میں اکثر حضرات تو وہ تھے جو اپنے کام کاج میں بھی مشغول رہتے اور وقتاً فوقتاً آپ ﷺکی خدمت میں حاضری بھی دیتے، جب کہ کچھ خوش قسمت حضرات وہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ او راپنے اوقات کا ہر ثانیہ آپ ﷺ کی خدمت میں گزارنے کا عہد کر رکھا تھا۔ آپ ﷺکسی دنیاوی جاہ وجلال کے روایتی بادشاہ نہ تھے کہ یہ لوگ محض پیٹ پروری کے لیے آپﷺکے ساتھ رہنے لگے اور نہ ہی ان حضرات کی کوئی دنیاوی غرض ہوتی تھی، بلکہ یہ لوگ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالی کے مبعوث کردہ نبی برحق ہیں اور آپ ﷺ کی تعلیمات قیامت تک اُمت کے لیے راہنما اور کامیابی وکامرانی کا ذریعہ ہیں۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ سب سے پہلے جن حضرات نے اشتغال بالحدیث کی عملی بنیاد رکھی اور حدیث رسولﷺ کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا، ان لوگوں نے ایک طرف تو فقر کو اختیار کیا اور دوسری طرف اس علم کی خوب خدمت کی۔ حیرت ہوتی ہے ان کی قربانیوں پرکہ معیشت ومعاشرہ کے انتہائی سنگین ترین مسائل کی فکرسے دورہوکر دامن رسول اﷺکو نہ چھوڑا اور آپﷺ کی تعلیمات کا تمام تر حصہ اگلی نسل میں منتقل کر دیا۔ یہ وہ چراغ تھے جو خود جل جل کر روشنی دیتے اور نور کی کرنیں بکھیرتے رہے اور پھر ان کی راہ پر چلنے والے ہر دور میں پیدا ہوتے رہے اور وہ بھی ٹھیک ان کی طرح دین میں کمی کرنے والوں اور زیادتی کرنے والوں کی پکڑ کر تے رہے۔ یہ وہ عاشقانِ رسولﷺ اور اساطین علم تھے جنہوں نے کذابین اور دجالین کے کذب وافترا اور دجل وفریب کا پردہ چاک کیا اور روایت حدیث کے لیے سند کو لازمی قرار دیا، ان اسانید ہی کی بدولت ان حضرات نے دشمنان دین کی طرف سے وضع حدیث کی صورت میں اسلام کو مسخ کرنے کی ایک بہت بڑی چال کو کسی طرح سے بھی چلنے نہیں دیا۔ وضع حدیث (یعنی اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرنا)اسلام دشمن فرقوں کی وہ خطرناک چال تھی جو اگر چل جاتی تو یہ دین اسلام کی مستحکم عمارت کو وہ نقصان پہنچاتی جو اسلام کا بڑے سے بڑا طاقت ور دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، پھر اسلام کی وہ صاف اور ستھری صورت باقی نہ رہتی، جس پر اللہ تعالیٰ نے اس دین کو پسند کیا تھا، بلکہ اس کا حلیہ بدل جاتا اور یہ پچھلی قوموں کی طرح ایک ناقابل عمل داستان وچیستان بن جاتا، مگر اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی کو فریب کاروں اور دجالوں کی حرکات کا خوب علم ہے، اس لیے قدرت کی طرف سے اس پسندیدہ دین کی حفاظت کے لیے ان برگزیدہ ہستیوں کا انتخاب کیا گیا، جنہیں دنیا محدثین کے عالی شان لقب سے یاد کرتی ہے اورہمیشہ دین دشمن طبقہ جب بھی اپناگندہ منہ کھولے گاتو صرف اسی طبقہ کے خلاف کھولے گا جو آج بھی رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف کے دامن کے ساتھ وابستہ ہیں اورخدمت حدیث کو ہی اپنااخروی سرمایہ گردانتے ہیں اوریہ جماعت بحمداللہ تعالی آج حالات چاہے جیسے ہوں عسرہویایسرہو قال اللہ تعالی اورقال رسول اللہ ﷺکی صدائے دلنواز سے امت کے قلوب واذہان کو منورومعطرکئے ہیں ۔دشمن جب کسی گھرمیں چوری کرناچاہتاہے تو سب سے پہلے وہ چوکیدار کادشمن بنتاہے ، اسی لئے آج بھی جب دین دشمن دین کی بنیادوں کو کھوکھلاکرناچاہتے ہیں تو سب سے پہلے حاملین قرآن وحدیث کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ اسی لئے ہم نے یہ اہتمام کیاکہ اس مقام پر محدثین کے دفاع میں کچھ کلام نقل کردیاجائے تاکہ اہل ایمان کے ایمان محفوظ ہوں اوردین دشمنوں کی دسیسہ کاریوں کاپردہ چاک ہو۔

رسول اللہ ﷺکے کلام سے محدثین کی جماعت کی فضیلت

عَنِ المُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ یَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ، حَتَّی یَأْتِیَہُمْ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ ظَاہِرُونَ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہﷺنے فرمایا:ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پررہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہیں نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجائے تووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا ۔ (صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۹:۱۰۱) امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں فَلَقَدْ أَحْسَنَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلِ فِی تَفْسِیرِ ہَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الطَّائِفَۃَ الْمَنْصُورَۃَ الَّتِی یُرْفَعُ الْخِذْلَانُ عَنْہُمْ إِلَی قِیَامِ السَّاعَۃِ ہُمْ أَصْحَابُ الْحَدِیثِ، وَمَنْ أَحَقُّ بِہَذَا التَّأْوِیلِ مِنْ قَوْمٍ سَلَکُوا مَحَجَّۃَ الصَّالِحِینَ، وَاتَّبَعُوا آثَارَ السَّلَفِ مِنَ الْمَاضِینَ وَدَمَغُوا أَہْلَ الْبِدَعِ وَالْمُخَالِفِینَ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَعَلَی آلِہِ أَجْمَعِینَ۔ ترجمہ :امام حاکم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کی بہت اچھی تفسیر اورشرح کی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا کہ طائفہ منصورہ جوقیامت تک قائم رہے گا اوراسے کوئی بھی ذلیل نہیں کرسکے گا ، وہ محدثین کی جماعت ہی ہے ۔ تواس تاویل کا ان لوگوں سے زیادہ کون حق دار ہے جو صالحین کے طریقے پرچلیں اورسلف کے آثارکی اتباع کریں اوربدعتیوں اورسنت کے مخالفوں کوسنت رسول ﷺ کے ساتھ دبا کررکھیں اورانہیں ختم کردیں ۔ (معرفۃ علوم الحدیث:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم :۲) حضرت سیدناموسی بن ہارون رحمہ اللہ تعالی کاقول مُوسَی بْنَ ہَارُونَ، یَقُولُ:سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ: وَسُئِلَ عَنْ مَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ، فَقَالَ:إِنْ لَمْ تَکُنْ ہَذِہِ الطَّائِفَۃُ الْمَنْصُورَۃُ أَصْحَابَ الْحَدِیثِ فَلَا أَدْرِی مَنْ ہُمْ۔ ترجمہ :حضرت سیدناموسی بن ہارون رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ میں نے حضرت سیدنااحمدبن حنبل رضی اللہ عنہ سے سناجب ان سے سوال کیاگیاکہ اس حدیث شریف کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟(جو حدیث شریف ہم ذکرکرآئے ہیں) توآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سے مراد ان لوگوں کی جماعت ہے جو حدیث شریف روایت کرنے والے اوراس پر عمل کرنے والے ہیں، اگراس سے مراد یہ نہیں ہیں تو پھرمجھے نہیں معلوم کہ اس سے مراد کون ہیں؟ (معرفۃ علوم الحدیث:أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم :۲)

حضرت خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں

وَقَدْ جَعَلَ اللَّہُ تَعَالَی أَہْلَہُ أَرْکَانَ الشَّرِیعَۃِ، وَہَدَمَ بِہِمْ کُلَّ بِدْعَۃٍ شَنِیعَۃٍ فَہُمْ أُمَنَاء ُ اللَّہِ مِنْ خَلِیقَتِہِ، وَالْوَاسِطَۃُ بَیْنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِہِ، وَالْمُجْتَہِدُونَ فِی حَفِظِ مِلَّتِہِ أَنْوَارُہُمْ زَاہِرَۃٌ تَعْکُفُ عَلَیْہِ، سِوَی أَصْحَابِ الْحَدِیثِ، فَإِنَّ الْکِتَابَ عُدَّتُہُمْ، وَالسُّنَّۃُ حُجَّتُہُمْ، وَالرَّسُولُ فِئَتُہُمْ، وَإِلَیْہِ نِسْبَتُہُمْ، لَا یُعَرِّجُونَ عَلَی الْأَہْوَاء ِ، وَلَا یَلْتَفِتُونَ إِلَی الْآرَاء ِ، یُقْبَلُ مِنْہُمْ مَا رَوَوْا عَنِ الرَّسُولِ، وَہُمُ الْمَأْمُونُونَ عَلَیْہِ وَالْعُدُولُ، حَفَظَۃُ الدِّینِ وَخَزَنَتُہُ، وَأَوْعِیَۃُ الْعِلْمِ وَحَمَلَتُہُ إِذَا اخْتُلِفَ فِی حَدِیثٍ، کَانَ إِلَیْہِمُ الرُّجُوعُ، فَمَا حَکَمُوا بِہِ، فَہُوَ الْمَقْبُولُ الْمَسْمُوعُ وَمِنْہُمْ کُلُّ عَالِمٍ فَقِیہٌ، وَإِمَامٌ رَفِیعٌ نَبِیہٌ، وَزَاہِدٌ فِی قَبِیلَۃٍ، وَمَخْصُوصٌ بِفَضِیلَۃٍ، وَقَارِئٌ مُتْقِنٌ، وَخَطِیبٌ مُحْسِنٌ وَہُمُ الْجُمْہُورُ الْعَظِیمُ، وَسَبِیلُہُمُ السَّبِیلُ الْمُسْتَقِیمُ وَکُلُّ مُبْتَدَعٍ بِاعْتِقَادِہِمْ یَتَظَاہَرُ، وَعَلَی الْإِفْصَاحِ بِغَیْرِ مَذَاہِبِہِمْ لَا یَتَجَاسَرُ مَنْ کَادَہُمْ قَصَمَہُ اللَّہُ، وَمَنْ عَانَدَہُمْ خَذَلَہُمُ اللَّہُ لَا یَضُرُّہُمُ مَنْ خَذَلَہُمْ، وَلَا یُفْلِحُ مَنِ اعْتَزَلَہُمُ الْمُحْتَاطُ لِدِینِہِ إِلَی إِرْشَادِہِمْ فَقِیرٌ، وَبَصَرُ النَّاظِرِ بِالسُّوء ِ إِلَیْہِمْ حَسِیرٌ وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ۔ ترجمہ:اللہ تعالی نے محدثین کی جماعت کوارکان شریعت بنایا اور ان کے ذریعہ سے ہرشنیع بدعت کی سرکوبی فرمائی تویہ لوگ اللہ تعالی کی مخلوق میں اللہ تعالی کے امین ہیں اورنبی ﷺ اوران کی امت کے درمیان واسطہ و رابطہ اورنبیﷺ کی ملت کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ۔ان کی روشنی واضح اور ان کے فضائل پھیلے ہوئے اوران کے اوصاف روز روشن کی طرح عیاں ہیں ، ان کا مسلک ومذھب واضح و ظاہر اور ان کے دلائل قاطع ہیں محدثین کے علاوہ ہر ایک گروہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا اور اپنی رائے ہی کو بہترقرار دیتا ہے جس پراس کا انحصار ہوتا ہے ۔لیکن محدثین یہ کام نہیں کرتے اس لیے کہ کتاب اللہ ان کا اسلحہ اورسنت نبویہ ان کی دلیل و حجت ہے اوررسول اکرم ﷺ ان کا گروہ ہیں اوران کی طرف ہی ان کی نسبت ہے ۔وہ ھواء وخواہشا ت پرانحصار نہیں کرتے اورنہ ہی آراء کی طرف ان کا التفات ہے جوبھی انہوں نے نبیﷺسے روایات بیان کی ان سے وہ قبول کی جاتی ہیں ، وہ حدیث کے امین اور اس پرعدل کرنے والے ہیں ۔ محدثین دین کے محافظ اوراس کے دربان ہیں ، علم کے خزانے اورحامل ہیں ،جب کسی حدیث میں اختلاف پیدا ہوجائے تومحدثین کی طرف ہی رجوع ہوتا ہے اورجو وہ اس پرحکم لگا دیں وہ قبول ہوتااورقابل سماعت ہوتا ہے ۔ان میں فقیہ و عالم بھی اوراپنے نبیﷺ کی طرف سے دی جانے والی رفعت کے امام بھی ، اورزھد میں یدطولی رکھنے والے بھی ، اورخصوصی فضیلت رکھنے والے بھی ، اورمتقین قاری بھی ،بہت اچھے خطیب بھی ، اوروہ جمہورعظیم بھی ہیں ان کا راستہ صراط مستقیم ہے ، اورہربدعتی ان کے اعتقاد سے مخالفت کرتا ہے اوران کے مذھب کے بغیر کامیابی اورسراٹھانا ممکن نہیں ۔ جس نے ان کے خلاف سازش کی اللہ تعالی نے اسے نیست نابود کردیا ، جس نے ان سے دشمنی کی اللہ تعالی نے اسے ذلیل ورسوا کردیا ، جوانہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں دے سکتا ، جوانہیں چھوڑ کرعلیحدہ ہو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ اپنے دین کی احتیاط اورحفاظت کرنے والا ان کی رہنمائی کا فقیر ومحتاج ہے ، اوران کی طرف بری نظر سے دیکھنے والے کی آنکھیں تھک کرختم ہوجائیں گی ، اوراللہ تعالی ان کی مدد و نصرت کرنے پرقادر ہے ۔ (شرف أصحاب الحدیث:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۸)

لبر ل محدثین کادشمن ہوتاہے

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ:وَعَلَی ہَذَا عَہِدْنَا فِی أَسْفَارِنَا وَأَوْطَانِنَا کُلَّ مَنْ یُنْسَبُ إِلَی نَوْعٍ مِنَ الْإِلْحَادِ وَالْبِدَعِ لَا یَنْظُرُ إِلَی الطَّائِفَۃِ الْمَنْصُورَۃِ إِلَّا بِعَیْنِ الْحَقَارَۃِ، وَیُسَمِّیہَا الْحَشْوِیَّۃَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام ابوعبداللہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے سفر و حضر میں اسی طرح دیکھاہے کہ جس شخص میں کوئی گمراہی اور بدعت ہوتی ہے،وہ طائفہ منصورہ کو حقارت ہی کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کو حشویہ(گمراہ فرقہ)کا نام دیتا ہے۔ (معرفۃ علوم الحدیث: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم :۴)

امام اوزاعی رحمہ اللہ تعالی کاقول

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدَ الْبَیْرُوتِیُّ، قَالَ:أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ:سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِیَّ، یَقُولُ: عَلَیْکَ بِآثَارِ مَنْ سَلَفَ، وَإِنْ رَفَضَکَ النَّاسُ.وَإِیَّاکَ وَرَأْیَ الرِّجَالِ، وَإِنْ زَخْرَفُوہُ بِالْقَوْلِ. فَإِنَّ الْأَمْرَ یَنْجَلِی، وَأَنْتَ عَلَی طَرِیقٍ مُسْتَقِیمٍ ترجمہ :امام عبد الرحمن بن عمرواوزاعی رحمہ اللہ المتوفی : ۱۵۷ھ)فرماتے ہیں تو سلف (محدثین)کے آثار کو لازم پکڑ،اگرچہ لوگ تجھے چھوڑدیں۔ تو(بدمذہب)لوگوں کی آرا سے بچ،اگرچہ وہ ان کو مزین کر کے پیش کریں،کیونکہ بلاشبہ ایسا کرنے سے تیرا معاملہ صاف ہو جائے گااور تو صراط ِ مستقیم پر گامزن ہو جائے گا۔ (معرفۃ علوم الحدیث: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم :۷)

اہل سنت کاشعار کیاہے ؟

وشعار أہل السّنۃ اتباعہم السّلف الصَّالح، وترکہم کل مَا ہُوَ مُبْتَدع مُحدث۔ ترجمہ:علامہ ابوالمظفرسمعانی رحمہ اللہ المتوفی : ۴۸۹ھ )فرماتے ہیں :اہل سنت کا شعار سلف صالحین کی پیروی کرنا اور ہر بدعت کو چھوڑ دینا ہے ۔ (الحجۃ فی بیان المحجۃ وشرح عقیدۃ أہل السنۃ:إسماعیل بن محمد ، أبو القاسم، الملقب بقوام السنۃ (۱:۳۹۵) صحابہ کرام اورمحدثین رضی اللہ عنہم کے خلاف باتیں بنانادین دشمن کاکام ہے وَہٰذَا ہُوَ الْبُہْتُ الْکَبِیرُ اَنْ یُّحْکٰی اَوْ یُنْقَلَ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ مَا لَمْ یَفْعَلُوہُ عَلٰی سَبِیلِ الْعَیْبِ وَالتَّنَقُّصِ لَہُمْ، وَمِنْ اَکْثَرِ مَنْ یَّدْخُلُ فِی ہٰذَا الْوَعِیدِ الْکَفَرَۃُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہٖ، ثُمَّ الرَّافِضَۃُ الَّذِینَ یَتَنَقَّصُونَ الصَّحَابَۃَ ، وَیَعِیبُونَہُمْ بِمَا قَدْ بَرَّاَہُمُ اللّٰہُ مِنْہُ، وَیَصِفُونَہُمْ بِنَقِیضِ مَا اَخْبَرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اَخْبَرَ اَنَّہ قَدْ رَضِیَ عَنِ الْمُہَاجِرِینَ وَالْـاَنْصَارِ وَمَدَحَہُمْ، وَہٰؤُلَائِ الْجَہَلَۃُ الْـاَغْبِیَائُ یَسُبُّونَہُمْ وَیَتَنَقَّصُونَہُمْ، وَیَذْکُرُونَ عَنْہُمْ مَّا لَمْ یَکُنْ وَلَا فَعَلُوہُ اَبَدًا، فَہُمْ فِی الْحَقِیقَۃِ مَنْکُوسُو الْقُلُوبِ، یَذُمُّونَ الْمَمْدُوحِینَ وَیَمْدَحُونَ الْمَذْمُومِینَ ۔ ترجمہ:حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی المتوفی : ۷۷۴ھ) لکھتے ہیں کہ یہ بہت بڑا بہتان ہے کہ مومنوں کی عیب جوئی اور تنقیص کے لیے ان کے بارے میں ایسی بات بیان یا نقل کی جائے جس کا انہوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔سب سے بڑھ کر یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں،جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔کافروں کے بعد اس کام میں رافضیوں کا نمبر ہے،جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتے ہیں اور ان پر ایسے عیب جوئی کرتے ہیں،جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بَری فرما دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے،وہ ان کے بارے میں اس کے برعکس بیان کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ وہ مہاجرین و انصار سے راضی ہو گیا ہے اور اللہ نے ان کی تعریف بھی فرمائی ہے،لیکن یہ جاہل اور بے وقوف لوگ ان کو بُرا بھلا کہتے ہیں،ان کی گستاخیاں کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ایسی باتیں بیان کرتے ہیں،جو کبھی معرضِ وجود میں آئی ہی نہیں اور جن کا ارتکاب انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔درحقیقت ان لوگوں کی عقل و شعور اُلٹ ہو گئی ہے،اسی لیے یہ ممدوح لوگوں کی مذمت اور مذموم لوگوں کی مدح میں مصروف ہیں۔ (تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱:۴۸۰) محدثین کے دشمن کو سنت کی حلاوت سے محروم کردیاجاتاہے جَعْفَرَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، یَقُولُ:سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سِنَانٍ الْقَطَّانَ، یَقُولُ:لَیْسَ فِی الدُّنْیَا مُبْتَدِعٌ إِلَّا وَہُوَ یُبْغِضُ أَہْلَ الْحَدِیثِ فَإِذَا ابْتَدَعَ الرَّجُلُ نُزِعَ حَلَاوَۃُ الْحَدِیثِ مِنْ قَلْبِہِ۔ ترجمہ :امام ابوجعفر احمد بن سنان واسطی رحمہ اللہ المتوفی : ۲۵۹ھ) فرماتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بدعتی ایسا نہیں،جومحدثین سے بغض نہ رکھتا ہو۔جب کوئی بندہ بدعتی بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے حدیث کی حلاوت کھینچ لیتا ہے۔ (شرف أصحاب الحدیث:أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی :۷۳) لبرل محدثین کادشمن ہے قَالَ: أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: وَأَہْلُ السُّنَّۃِ قَاطِبَۃً إِخْوَانُہُمْ، وَأَہْلُ الْإِلْحَادِ وَالْبِدَعِ بِأَسْرِہَا أَعْدَاؤُہُمْ ۔ ترجمہ:امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل سنت سارے کے سارے آپس میں بھائی بھائی ہیں،جبکہ گمراہ و بدعتی تمام کے تمام ان کے دشمن ہیں۔(یعنی چاروں مسالک حنفیہ ، شافعیہ ،مالکیہ اورحنبلیہ ) (معرفۃ علوم الحدیث: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد بن حمدویہ بن نُعیم :۶) محدثین کے دشمن ہی ذلیل ہونگے اعْتَرَضَتْ طَائِفَۃٌ مِمَّنْ یَشْنَأُ الْحَدِیثَ وَیُبْغِضُ أَہْلَہُ، فَقَالُوا بِتَنَقُّصِ أَصْحَابِ الْحَدِیثِ وَالْإِزْرَاء ِ بِہِمْ، وَأَسْرَفُوا فِی ذَمِّہِمْ وَالتَّقَوُّلِ عَلَیْہِمْ، وَقَدْ شَرَّفَ اللَّہُ الْحَدِیثَ وَفَضَّلَ أَہْلَہُ، وَأَعْلَی مَنْزِلَتَہُ، وَحَکَّمَہُ عَلَی کُلِّ نِحْلَۃٍ، وَقَدَّمَہُ عَلَی کُلِّ عَلْمٍ، وَرَفَعَ مِنْ ذِکْرِ مَنْ حَمَلَہُ وَعُنِیَ بِہِ، فَہُمْ بَیْضَۃُ الدِّینِ وَمَنَارُ الْحُجَّۃِ۔ ترجمہ:امام ابومحمدالحسن الفارسی المتوفی : ۳۶۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ ایک گروہ اٹھا ہے جو حدیث اور محدثین سے بغض رکھتا ہے،انہوں نے محدثین کی تنقیص اور گستاخی شروع کی ہوئی ہے ،یہ لوگ ان کی مذمت کرنے اور ان پر بہتان لگانے میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حدیث کو شرف بخشا اور محدثین کو فضیلت عطا فرمائی،اس نے حدیث کا مرتبہ بلند کیا،اسے ہر ملت پر حاکم بنایا،اسے ہر علم پر فوقیت بخشی اور جو لوگ حدیث کو سیکھتے اور اس سے لگائو رکھتے ہیں،ان کو بھی ارفع مقام عطا فرمایا۔یہی لوگ دین کی بنیاد اور دلیل و حجت کے مینار ہیں۔ (المحدث الفاصل بین الراوی والواعی:أبو محمد الحسن بن عبد الرحمن بن خلاد الرامہرمزی الفارسی :۱۶۳) حق پر کون؟ إِنَّ کُلَّ فَرِیقٍ مِّنَ الْمُبْتَدِعَۃِ إِنَّمَا یَدَّعِی اَنَّ الَّذِی یَعْتَقِدہ ہُوَ مَا کَانَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لِاَنَّہُمْ کُلَّہُمْ مُّدَّعُونَ شَرِیعَۃَالْإِسْلَامِ، مُلْتَزِمُونَ فِی الظَّاہِرِ شَعَائِرَہَا، یَرَوْنَ اَنَّ مَا جَائَ بِہٖ مُحَمَّدٌ(ہُوَ الْحَقُّ)، غَیْرَ اَنَّ الطُّرُقَ تَفَرَّقَتْ بِہِمْ بَعْدَ ذٰلِکَ، وَاَحْدَثُوا فِی الدِّینِ مَا لَمْ یَاْذَنْ بِہِ اللّٰہُ وَرَسُولُہ، فَزَعَمَ کُلُّ فَرِیقٍ اَنَّہ ہُوَ الْمُتَمَسِّکُ بِشَرِیعَۃِ الْإِسْلَامِ، وَاَنَّ الْحَقَّ الَّذِی قَامَ بِہٖ رَسُولُ اللّٰہِ ہُوَ الَّذِی یَعْتَقِدہ وَیَنْتَحِلُہ، غَیْرَ اَنَّ اللّٰہَ اَبٰی اَنْ یَّکُونَ الْحَقَّ وَالْعَقِیدَۃَ الصَّحِیحَۃَ إِلَّا مَعَ اَہْلِ الْحَدِیثِ وَالْآثَارِ، لِاَنَّہُمْ اَخَذُوا دِینَہُمْ وَعَقَائِدَہُمْ خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ، وَقَرْنًا عَنْ قَرْنٍ، إِلٰی اَنِ انْتَہَوْا إِلَی التَّابِعِینَ، وَاَخَذَہُ التَّابِعُونَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَاَخَذَہ اَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَا طَرِیقَ إِلٰی مَعْرِفَۃِ مَا دَعَا إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ مِنَ الدِّینِ الْمُسْتَقیمِ، وَالصِّرَاطِ الْقَوِیمِ، إِلَّا ہٰذَا الطَّرِیقَ الَّذِی سَلَکَہ اَصْحَابُ الْحَدِیثِ، وَاَمَّا سَائِرُ الْفِرَقِ فَطَلَبُوا الدِّینَ لَا بِطَرِیقِہٖ لِاَنَّہُمْ رَجَعُوا إِلٰی مَعْقُولِہِ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh