بینک سے کٹنے والی زکوٰۃ (Bank Deduction) کا شرعی حکم
سوال (Question):
رمضان کی یکم تاریخ کو بینک ہمارے اکاؤنٹ سے جو زکوٰۃ کاٹ لیتا ہے، کیا اس سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
چونکہ اکاؤنٹ کھلواتے وقت کھاتہ دار کو معلوم ہوتا ہے اور اس کی رضامندی (یا خاموش اجازت) شامل ہوتی ہے کہ یکم رمضان کو کٹوتی ہو گی، اس لیے نیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا بینک جو رقم کاٹ کر زکوٰۃ فنڈ میں جمع کرواتا ہے، اس حد تک زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔ بقایا مال کی زکوٰۃ خود حساب کر کے دینا ہو گی۔ واللہ اعلم۔