صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1320 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,964

سوال (Question):

سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر چھوٹ گیا تو کیا حکم ہے

السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ امام سے نماز میں بھول سے واجبات چھوٹ گئے اب امام نے بھول سے سجدۂ سہو بھی کرنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا تو اب کیا کرے نماز پھر سے دہرائے یا کیا کرے تسلی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں ۔ سائل : ابوالکلام قادری جھارکھنڈ کوڈرما ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب اگر بھول کر سلام پھیر دیا اور حرمت نماز میں ہے یعنی کوئی ایسی چیز نہیں کی ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اور سلام پھیرتے ہی فورا اسے یاد آ گیا کہ سجدہ سہو نہیں کیا ہے تو سجدہ سہو کرے پھر تحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔ اور اگر حرمت نماز میں نہیں ہے یعنی کوئی ایسا کام کر لیا ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے تو اب نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ درمختار میں ہے : ” ويسجد للسهو ولو مع سلامه ناويا للقطع لان نية تغيير المشروع لغو مالم يتحول عن القبلة او يتكلم لبطلان التحريمة ولو نسى السهو أوسجدة اصلبية اوتلاوية يلزمه ذلك مادام في المسجد۔ ( باب سجود السهو ج ۲ ص۹۱) واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبــــہ :محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۵ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز اتوار

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh