صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #576 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کہنا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,030

سوال (Question):

سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کہنا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سنیوں کی مسجد نہ ہو تو گھر میں نماز پڑھنے والے کیلئے اذان و اقامت کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محلہ میں غیروں کی مسجد ہے جس میں اذان و اقامت ہوتی ہے وہاں گھر میں نماز پڑھنے کیلئے اذان و اقامت دونوں ضروری ہیں یا صرف اقامت یا بغیر اقامت بھی فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر گھر میں جماعت سے پڑھیں تو اذان و اقامت کا کیا حکم ہے براے مہربانی مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دیوبندی وھابی بمطابق فتاوی حسام الحرمین کافر و مرتد ہیں اور کافر کی اذان اصلا اذان نہیں۔ ردالمحتار میں ہے “ﻭﺣﺎﺻﻠﻪ ﺃﻧﻪ ﻳﺼﺢ ﺃﺫاﻥ اﻟﻔﺎﺳﻖ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺤﺼﻞ ﺑﻪ اﻹﻋﻼﻡ ﺃﻱ اﻻﻋﺘﻤﺎﺩ ﻋﻠﻰ ﻗﺒﻮﻝ ﻗﻮﻟﻪ ﻓﻲ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﺨﻼﻑ اﻟﻜﺎﻓﺮ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺎﻗﻞ ﻓﻼ ﻳﺼﺢ ﺃﺻﻼ” (ج٢،ص٧٦) فتاوی رضویہ میں ہے “وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں اور اہلسنت کو اُس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں درمختار میں ہے ویعاد اذان کافر وفاسق” (ج٥،ص٤٢٢) لہذا اگر اس محلہ میں صرف انہیں کی مسجد ہے اور وہی اذان دیتے ہیں تو گھر میں نماز پڑھنے والے کو خواہ تنہا پڑھے یا جماعت سے کراہت سے بچنے کیلئے اقامت کہنا ضروری ہے البتہ اذان و اقامت دونوں کہے تو زیادہ بہتر ہے۔ ہندیہ میں ہے “ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺃﺩاء اﻟﻤﻜﺘﻮﺑﺔ ﺑﺎﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﺑﻐﻴﺮ ﺃﺫاﻥ ﻭﺇﻗﺎﻣﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻬﻤﺎ ﻟﻤﻦ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﺼﺮ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻭﻻ ﻓﺮﻕ ﺑﻴﻦ اﻟﻮاﺣﺪ ﻭاﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﺒﻴﻴﻦ ﻭاﻷﻓﻀﻞ ﺃﻥ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﺎﻷﺫاﻥ ﻭاﻹﻗﺎﻣﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﻤﺮﺗﺎﺷﻲ ﻭﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺆﺫﻥ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﺤﻠﺔ ﻳﻜﺮﻩ ﻟﻪ ﺗﺮﻛﻬﻤﺎ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻷﺫاﻥ ﻭﺣﺪﻩ ﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻹﻗﺎﻣﺔ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺘﻤﺮﺗﺎﺷﻲ” (ج١،ص٥٤)۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری ٢٠ مئی ٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh