صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1954 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,790

سوال (Question):

سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی سوال: اہلسنت کا نکاح کسی اور فرقے کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً نکاح ہوجائے گا؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر کوئی ہندو مشرك زوجین کو ایجاب وقبول رو بروئے گواہان کرا دے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ جلد11صفحہ219- رضا فاؤنڈیشن لاہور) مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ نکاح میں شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح خواں ایجاب و قبول کر وادے اور وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو تو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح خواں محض وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لئے اسلام شرط نہیں ہے، لیکن اہلسنت صحیح العقیدہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہ پڑھوایا جائے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم کرنی پڑے گی جبکہ بدمذہب کی تعظیم جائز نہیں ہے-
امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
عیسائی عورت سے نکاح کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh