Fatwa #1352
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,204
سوال (Question):
سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سودی کام میں معاونت حرام ہے / سودی کام مدد کرنا کیسا ہے ؟
علماے کرام اور مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ میں ایک پرائیویٹ بینک میں اسسٹنٹ مینجر ہوں، مجھے لوگوں کو گولڈ لون، ہوم لون اور مورگس لون اور بھی کئی قسم کے لون ہیں اس کا کام میرے ذریعے سے ہوتا ہے، یعنی میں ان کو دیتا ہوں کمپنی کی طرف سے، تو کیا ایسی نوکری کرنا میرے لیے جائز ہوگا؟ جب کہ میں صرف ان کا امپلائی ہوں، یہی میری ڈیوٹی ہے، شریعت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اجر کے مستحق ہوں۔شکریہ۔ مستفتی عبدالقادر، بلیا، یوپی الجواب بعون الملک الوھاب بینک سے لون دینے میں اگر سودی تمسکات تیار کرنا پڑے ،یا کسی بھی طرح سے سودی لین دین میں تعاون کرنا پڑے تو اس طرح کی ملازمت جائز نہیں. قرآن مجید میں ہے: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿البقرۃ:٢٧٥﴾ دوسری جگہ ارشاد ہے : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ}[البقرة:٢٧٨-٢٧٩] تیسری جگہ ارشاد ہے : {وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ}[المائدة:٢] حدیث شریف میں ہے : “عن جابر قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء”. (الصحيح لمسلم، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، ۲/۲۷) شرح صحيح مسلم للنووی میں ہے: فیہ تحریم الاعانۃ علی الباطل۔‘‘(المنھاج شرح مسلم بن الحجاج للنووی ٢/ ٢٨) عمدۃ القاری میں ہے: “إن آيات الربا التي في آخر سورة البقرة مبينة لأحكامه وذامة لآكليه، فإن قلت: ليس في الحديث شيء يدل على كاتب الربا وشاهده؟ قلت: لما كانا معاونين على الأكل صارا كأنهما قائلان أيضا: إنما البيع مثل الربا، أو كانا راضيين بفعله، والرضى بالحرام حرام” (عمدة القاري شرح صحيح البخاري ١١/ ٢٠٠) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٦رجب ١٤٤٣/ ٨فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9