صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1878 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سورۂ فاتحہ اور سورہ اخلاص وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,917

سوال (Question):

سورۂ فاتحہ اور سورہ اخلاص وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سورۂ فاتحہ اور سورہ اخلاص وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صورت مسئولہ میں مقتدی کے لئے تو حکم یہ ہے کہ جب وہ شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو تو ثناء پڑھنے کے بعد ہر رکعت میں خاموش ہی کھڑا رہے گا، ہاں اگر تنہا نماز ادا کر رہا ہے تو ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے، اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے سے قبل بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے یہ اس وقت ہے کہ جب کوئی سورت شروع سے پڑھے اگر سورت کے درمیان سے پڑھے تو مستحب نہیں، اور یہ حکم امام اور منفرد کے لئے ہے مقتدی کے لئے بسم اللّٰہ پڑھنے کاحکم نہیں.. (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، سورۂ فاتحہ کی ابتدا میں تسمیہ(بسم اللّٰہ پڑھنا سنت ہے، اور اس کے بعد اگر کوئی سورت اول سے پڑھے تو اس پر بسم اللہ کہنا مستحب ہے، اور کچھ آیتیں کہیں سے پڑھے تو اس پر کہنا(یعنی سبم اللہ پڑھنا مستحب نہیں، اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد6 صفحہ349 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh