صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1529 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,556

سوال (Question):

سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص کے پاس سونا چاندی اور نہ ہی روپیہ ہے لیکن اس کے پاس درخت ہے کیا اس پر زکوۃ واجب ہے. اور اگر واجب ہے تو درختوں کی زکوۃ کس طرح ادا کرے گا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں جس شخص کے پاس درختوں کے علاوہ سونا، چاندی نہیں اور نہ ہی مال تجارت ہے اور نہ اتنے روپیے ہیں کہ بازار میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا خرید سکتا ہے تو اس پر زکات واجب نہیں. اس لئے کہ درخت پر اس زکوۃ نہیں البتہ ان کے پھلوں میں عشر واجب ہے چاہے تھوڑے ہو یا زیادہ. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو چیز زمین کے تابع ہو جیسے درخت اس میں عشر نہیں( بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 53) اور حضرت علامہ ابن نجیم علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں ” لا عشر فیما ھو تابع للارض کالنخل والاشجار لانہ بمنزلۃ جزء الارض” (بحر الرائق جلد دوم صفحہ 238) اور جو ہرہ نیرہ جلد اول صفحہ 155 میں ہے ” العشر عندہ یجب فی قلیل الثمار وکثیرھا لانہ لا یعتبر فیھا النصاب” واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh