صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #350 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سونے کے بعد نظر آنے والی مذی کا حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,036

سوال (Question):

سونے کے بعد نظر آنے والی مذی کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سونے کے بعد نظر آنے والی مذی کا حکم

خواب میں برے خیالات دیکھ کر مذی نکلنے سے غسل فرض ہو گا کہ نہیں ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں

سائل:سلطان خان

الجواب بعون الملک الوہاب .

خواب دیکھ کر نکلنے والی تری کے مذی ہونے کاعلم خواب ہی میں ممکن نہیں بلکہ بیدار ہونے کے بعد علم ہوگا کہ منی ہے یا مذی یا ودی بہرحال بیدار ہونے پر تری نظر آئی اور اس تری کے مذی ہونے کا یقین ہے تو غسل واجب ہے اور اگر مذی ہونے کا احتمال ہے تو خواب میں احتلام یاد ہونے کی صورت میں غسل واجب اور خواب یاد نہ ہونے کی صورت میں غسل واجب نہیں۔

فتاوی رضویہ میں ہے “اب رہیں تین صورتیں (٤) اُس تری کے منی ہونے کا احتمال ہو (٥) مذی ہونے کا علم ہو(٦) منی نہ ہونا تو معلوم مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔پس اگر خواب میں احتلام ہونا یاد ہے تو ان تینوں صورتوں میں بھی بالاتفاق نہانا واجب ہے۔

“فی رد المحتار یجب اتفاقا اذا علم انہ مذی اوشک مع تذکر الاحتلام اھ”(ردالمحتار کتاب الطہارۃ ۱ /۱۱۰)

اور اگر احتلام یاد نہیں تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک ان تینوں صورتوں میں اصلا غسل نہیں وھو الاقیس وبہ اخذ الامام الاجل العارف باللّٰہ خلف بن ایوب والامام الفقیہ ابو اللیث السمرقندی کما فی الفتح وغیرہ۔

شکل اخیر یعنی ششم میں طرفین یعنی حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما بھی امام ابویوسف کے ساتھ ہیں یعنی جہاں نہ منی کا احتمال نہ مذی کا یقین بلکہ مذی کا احتمال ہے غسل بالاتفاق واجب نہیں فی رد المحتارلایجب اتفاقا فیما اذا شک فی الاخیرین (یعنی المذی والودی) مع عدم تذکر الاحتلام۔(ردالمحتار، کتاب الطہارۃ،۱/

(فتاوی رضویہ،ج١،ص٦٢٧ تا ٦٣٢)۔

واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمد مصباحی قادری

١٤جون٢٠٢١

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh