صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1133 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,598

سوال (Question):

سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

سوال : سینٹ (پرفیوم) لگانا کیسا ہے ؟اور کیا سینٹ لگا کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ سینٹ یعنی پرفیوم میں اسپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے اور اسپرٹ ایک قسم کی شراب ہے جو کہ حرام اور نجاست غلیظہ ہے اس کا لگانا حرام و ناجائز ہے خواہ خارج نماز ہو یا داخل نماز. امام احمد رضا خاں محدّث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت فرماتے ہیں ‘‘ ان اسبار تو وھی روح النبیذ خمر قطعاً بل من اخبث الخمر فھی حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول. ” یعنی بے شک اسپریٹ جو جان نبیذ ہے شراب ہے بلکہ وہ سب سے گندی شراب ہے تو یہ حرام بھی ہے ناپاک بھی اور اس کی نجاست پیشاب کی طرح نجاست غلیظہ ہے. (فتاویٰ رضویہ جلد 2 صفحہ 120) اور فتاوی امجدیہ میں ہے الکوحل اور اسپرٹ وغیرہ رقیق و سیال مسکرات کا قطرہ قطرہ ناپاک و حرام اور ناجائز ہے. حدیث شریف میں ہے : ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام. (ج٤ ص ١٠٥) لہذا اگر سینٹ لگا کر نماز پڑھی اور وہ ایک درہم سے زیادہ ہے اگرچہ چند جگہ مل کر وہ مقدار پوری ہو نماز نہیں ہوگی. اس کا پاک کرنا فرض ہے اور درہم کے برابر ہے تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی جسے پاک کپڑے پہن کر دہرانا واجب اور اگر وہ درہم کی مقدار سے کم ہے تو اسے پاک کرنا سنت ہے کہ بغیر پاک کیے نماز ہو جائے گی مگر خلاف سنت ہوگی. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاست غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زاہد ہے تو زائد. اگر نجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید ،گوبر تو درہم کے برابر یا کم زیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زیادہ ہو. اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے ہے. اور اگر پتلی ہو جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی رک نہ سکے اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار یہاں کے روپے کے برابر ہے ۔ بہار شریعت حصہ 2 صفحہ 83 . واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــــہ :مفتی محمد انوار الحق قادری الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh