صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1817 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

شادی میں دیے جانے والے زیورات کو مہر بنانا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,232

سوال (Question):

شادی میں دیے جانے والے زیورات کو مہر بنانا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شادی میں دیے جانے والے زیورات کو مہر بنانا

الســـــلام علیکم مفتی صاحب قبلہ میرا سوال یہ ہے کی سونا چاندی کے وہ زیورات جو عورت کو شادی میں دیے جاتے ہیں کیا ان زیورات کو عورت کا مہر بنانا درست ہے یا نہیـــــــں؟ محمد ذاکر متعلم جامعہ علیمیہ جمدا شاہی نوشہرہ جموں وکشمیر الجوابـــــــــــــــــــ شادی میں دیے جانے والے سونے یا چاندی کے زیورات کو عورت کا مہر بنانا درست ہے، بشرطے کہ چاندی کی صورت میں اس کا وزن دس درھم یعنی بتیس (٣٢) گرام چھ سو پچپن (٦۵۵) ملی گرام کے برابر ہو اور سونا ہونے کی صورت میں اس کی قیمت مذکورہ بالا مقدار کی چاندی کی قیمت کے برابر ہو اور اگر اس سے کم ہو تو پہلی صورت میں مہر میں مذکور اس چاندی میں دس درہم کے وزن سے جتنی کمی ہے اتنی چاندی یا اس کی قیمت دینی ہوگی۔ اور دوسری صورت میں مہر میں مذکور جتنا سونا ذکر ہواہے اتنا سونا اور دس درہم کی قیمت میں جو کمی ہے اس کمی کو مکمل کرنا ہوگا۔ مثلا اتنا سونا مہر بنایا گیا جس کی قیمت آٹھ درہم کے برابر ہے تو وہ سونا اور دو درہم برابر چاندی یا اس کی قیمت دینا لازم ہوگا۔ یہ سب تفصیل اس وقت ہے جب کہ وطی یا خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق ہو یا زوجین میں سے کسی ایک کی موت ہوجائے۔ اور اگر خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق ہو اور وطی بھی نہ ہوئی ہو تو پہلی صورت میں مہر میں مذکور اس چاندی کا نصف اور پانچ درھم (یعنی سولہ گرام تین سو اٹھائیس ملی گرام) کے وزن سے جتنی چاندی کم ہے اتنی چاندی یا اس کی قیمت دینی ہوگی اور دوسری صورت میں اس سونے کے نصف کے ساتھ پانچ درہم کی قیمت میں جو کمی ہے اتنی چاندی یا اس کی قیمت کی تکمیل کرنی ہوگی۔مثلاً: وقتِ عقد مہر میں مذکور اس سونے کے زیور کی قیمت آٹھ درہم کے برابر تھی تو اس سونے کا نصف اور ایک درہم کے وزن برابر چاندی یا اس کی قیمت مہر میں دینی ہوگی۔ در مختار میں ہے: ” (وَتَجِبُ) الْعَشَرَةُ (إنْ سَمَّاهَا أَوْ دُونَهَا)” (ج۴ ص٢٣٣) اسی میں ہے: “(وَ) يَجِبُ (نِصْفُهُ بِطَلَاقٍ قَبْلَ وَطْءٍ أَوْ خَلْوَةٍ) فَلَوْ كَانَ نٙکٙحٙھا عَلَى مَا قِيمَتُهُ خَمْسَةٌ كَانَ لَهَا نِصْفُهُ وَدِرْهَمَانِ وَنِصْفٌ۔” (در مختار ج۴ص ٢٣٦) علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ وَدِرْهَمَانِ وَنِصْفٌ) لِأَنَّهُ لَمَّا سَمَّى مَا قِيمَتُهُ دُونَ الْعَشَرَةِ لَزِمَ خَمْسَةٌ أُخْرَى تَكْمِلَةَ الْعَشَرَةِ وٙ لَمَّا طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ كَانَ لَهَا نِصْفُ الْمُسَمَّى وَنِصْفُ التَّكْمِلَةِ۔” (رد المحتار مع الدر المختار ج ۴ص٢٣٦) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢۴/ذو القعدہ ١۴۴٣ھ// ٢۵/جون ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh