صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2191 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

شاعرمشرق علامہ محمداقبال حنفی قادری رحمہ اللہ تعالی کے جہاد اسلامی کے متعلق نظریات

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,341

سوال (Question):

شاعرمشرق علامہ محمداقبال حنفی قادری رحمہ اللہ تعالی کے جہاد اسلامی کے متعلق نظریات

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شاعرمشرق علامہ محمداقبال حنفی قادری رحمہ اللہ تعالی کے جہاد اسلامی کے متعلق نظریات

علامہ محمد اقبال المتوفی :۱۹۳۸ء)برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کے بہت عظیم مفکر اور شاعرِ اسلام ہیں۔ انھوں نے انیسویں صدی عیسوی کے ربع آخر کے جس ماحول میں آنکھ کھولی، اسلامی ممالک بہت حد تک استعماری قوتوں کے غلام بن چکے تھے۔ ترکان عثمانی اپنی بقا کی جدوجہد میں مصروفِ کار تھے مگر بالآخر وہ بھی جنگِ عظیم اوّل کے بعد اپنی آزادی کو برقرار نہ رکھ سکے اور یوں مسلم اتحاد کی سیاسی زنجیر کی آخری کڑی بھی اپنے ضعف کے باعث ٹوٹ گئی۔ اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے کبوتر کے تنِ نازک میں شاہین کا جگر پیدا

غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کو پیغام

انھوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں میں حریت، بیداری اور جہاد کی فکر پیدا کرنے کے لیے اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں خودی اور بے خودی کے تصور کو پیش کیا۔ احساسِ خودی کے ذریعہ وہ فرد کو مخاطب کرتے ہیں اور اس میں ایمان و عمل کی سرشاری پیدا کرتے ہیں۔ تصورِ بے خودی میں وہ فرد سے آگے بڑھ کر کتاب ملت بیضا کی شیرازہ بندی کرتے ہیں۔ اسرارِ خودی کی ابتدا ہی میں اقبال یوں گویا ہیں: ساقیا بر خیز و مے در جام کن محو از دل کاوشِ ایام کن می کند اندیشہ را ہشیار تر دیدہ بیدار را بیدار تر اعتبار کوہ بخشد کاہ را قوت شیراں دہد روباہ را خاک او اوجِ ثریا میدہد قطرہ را پہنائے دریا میدبد خامشی را شورشِ محشر کنند پائے کبک از خونِ باز احمر کند ترجمہ :اے ساقی!اٹھ اور میرے پیالے میں وہ شراب انڈیل دے جو دل سے زمانے کی تکالیف کو دور کر دے۔ایسی شراب فکر میں اور تیزی پیدا کر دیتی ہے اور جو آنکھ پہلے ہی بیدار ہو، اُس میں مزید بیداری پیدا کر دیتی ہے۔یہ تنکوں کو پہاڑ کا وقار عطا کرتی ہے اور لومڑی کو شیروں کی طاقت بخشتی ہے۔اس کی خاک کو ثریا کی بلندی بخشتی ہے اور قطرے کو سمندر کی وسعت دیتی ہے۔یہ خاموشی کو قیامت کے شور میں بدل دیتی ہے اور چکور کے پنجے کو باز سے لڑا دیتی ہے ذہنی غلامی سے جہاد کے سبب آزادی مل سکتی ہے یوں اسرارِ رموز کا مطالعہ کریں تو اس کا مجموعی تاثر فرد کو غلامانہ ذہنیت سے چھٹکارا دلا کر اس میں ایک نشہ جہاد پیدا کرنا ہے اور اسے عزم و یقین کی دولت سے مالا مال کرنا ہے۔ فکرِ اقبال کی اس عسکریت اور جہادی روح کا یہ نتیجہ نکلا کہ جنگِ عظیم دوم کے بعد مسلمانوں نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالا اور پھر مراکش سے ملائیشیا تک آزادی کی ایک لہر پیدا ہو گئی جس کے لیے اقبال نے بجا طور پر یہ پیغام دیا تھا: خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زبان تو ہے یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے یہ نکتہ سرگزشتِ ملتِ بیضا سے ہے پیدا کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسبان تو ہے سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اندلس کامیدان جنگ اوراقبال رحمہ اللہ تعالی

علامہ اقبال کی شعری اور نثری تحریروں کا بالاستیعاب مطالعہ کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے عروقِ مردہ میں تازہ خون کی گردش دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے قرآنِ مجید کا جس گہرائی سے مطالعہ کیا اور حضورتاجدارختم نبوت ﷺسے جس محبت و عقیدت کا والہانہ اظہار کیا ہے، اس کے باعث وہ اس رمز سے آشنا ہو چکے تھے کہ مسلمان کی زندگی اعلاے کلمۃ الحق اور غلبہ دین کے لیے ہے جس کے لیے جِہاد فی سبیل اﷲکا شعور ناگزیر ہے۔ یہ جِہاد اپنے اوّل قدم پر دعوتی، علمی، لسانی، مالی اور قلمی نوعیت کا ہے مگر اس کا ایک پہلو جانی بھی ہے جس کا منتہیٰ شہادت ہے۔ آپﷺ کی بعثت و نبوت کے ابتدائی تیرہ برس مکہ مکرمہ میں گزرے، ان برسوں میں جہاد کی نوعیت دعوتی اور تبلیغی ہے اور جہاد باللسان، جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی صورتیں سامنے آتی ہیں۔ مگر جب ہجرت کے بعد آپﷺ مدینہ منورہ تشریف لے جاتے ہیں تو پھر فتنے کی سرکوبی اور نوزائیدہ اسلامی ریاست کے دفاع کے لیے مختلف قسم کے دفاعی، انتظامی، جنگی اور عسکری انتظامات بھی کیے۔ اسلامی ریاست کے استحکام اور اعلاے کلمۃ الحق کے لیے اقدامی جہاد بھی کئے اورسرایابھی روانہ فرمائے ۔ کیا تاریخِ عالم میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی ایسی تہذیب موجود ہے جس کے ہاں تعلیم و تدریس، تزکیہ نفس اور زیر دستوں، غلاموں اور محروموں کی مدد کو بھی جہاد قرار دیا گیا ہو۔ اسلام میں تلوار اور تیر و تفنگ کا استعمال محض جوع الارض اور مالِ غنیمت حاصل کرنے کی غرض سے نہیں بلکہ ریاستی استحکام، دعوتی نظام اور امنِ عام کے برقرار رکھنے اورفنتوں کی سرکوبی کے لئے ہے۔ اقبال کتاب و سنت کے گہرے اِدراک کے باعث جہاد و قتال کی تمام ضرورتوں کو بخوبی سمجھتے تھے اور اس کا اظہار ان کی نظم و نثر میں ہوا ہے۔ ان کے مجموعہ کلام بالِ جبریل میں طارق کی دعا۔۔۔ اندلس کے میدانِ جنگ میں کا پہلا بند لائقِ توجہ ہے: یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذتِ آشنائی شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے قبا چاہیے اس کو خونِ عرب سے مسلمان کی زندگی کامقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے علامہ اقبال کے ہاں جِہاد کے بارے میں اولین شعری کا اظہار اسرارِ خودی (۱۹۱۵ء )میں ہوا ہے۔ اس کا ایک باب ہے دربیان اینکہ مقصدِ حیات مسلم اعلاے کلمۃ الحق است و جہاد اگر محرک اور جوع الارض باشد در مذہب اسلام حرام است۔ یعنی مسلمان کی زندگی کا مقصد اﷲکے کلمے (دین)کو سربلند کرنا ہے اور اگر اس جِہاد کا محرک (محض)ملک فتح کرنا ہو تو ایسی جنگ اسلام کے مذہب میں حرام ہے۔ صلح شر گردد چو مقصود است غیر گر خدا باشد غرض جنگ است خیر گرنگردد حق ز تیغ ما بلند جنگ باشد قوم را نا ارجمند ترجمہ :اگر مقصد غیراﷲہو تو صلح شر بن جاتی ہے (اور)اگر مقصود اﷲتعالیٰ کی ذات ہو تو جنگ بھی خیر ہو جاتی ہے۔ اگر ہماری تلوار سے حق کا کلمہ بلند نہ ہو تو ایسی جنگ قوم کے لیے نامبارک ہوتی ہے۔ اقبال اہل اسلام کو جہاد کی دعوت دیتے ہوئے کہتاہے عسکری مہمات اور جِہادی معرکوں میں ایک مردِ مجاہد کی سوچ کیا ہو سکتی ہے اور وہ اپنے مقاصد کی باز آفرینی کے لیے کیسے جذبات کا اظہار کرتا ہے، اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے کیسا راستہ انتخاب کرتا ہے کہ اسے واپسی کے اسباب و وسائل کو ضائع کرنے میں بھی کوئی دریغ نہیں ہوتا، علامہ اقبال نے ان عزائم کی تصویر کشی اپنے ایک مختصر فارسی قطعہ میں یوں کی ہے:

طارق چو برکنارہ اندلس سفینہ سوخت

گفتند کار تو بہ نگاہِ خرد خطاست دوریم از سوادِ وطن باز چوں رسیم؟

ترک سبب زروئے شریعت کجا رو است خندید و دستِ خویش بہ شمشیر برد و گفت

ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خدائے ماست ترجمہ :طارق نے جب ساحلِ اندلس پر اپنی کشتیاں جلا ڈالیں تو اس کے ہمراہیوں نے کہا کہ :تیرا یہ کام عقل و شعور کے لحاظ سے غلط ہے۔ہم اپنے وطن کی سرزمین سے بہت دور ہیں، واپس کیسے پہنچیں گے؟شریعت میں اسباب کو ترک کرنے کی اجازت کہاں ہے؟طارق مسکرایا اور اس نے اپنا ہاتھ تلوار کے قبضے پر رکھا اور یوں گویا ہوا:ہر ملک ہماری مِلک میں ہے کیونکہ ہمارے خدا کا ملک ہے۔ اے اہل اسلام تم اپنی مسجد توحاصل کرو مومناں را گفت آں سلطانِ دیںﷺ

مسجد من ایں ہمہ روئے زمیں الاماں از گردشِ نہ آسماں

مسجد مومن بدست دیگراں سخت کوشد بندہ پاکیزہ کیش

تا بگیرد مسجد مولائے خویش ترجمہ :حبیب کریم ﷺنے مومنوں سے فرمایا کہ میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔نو آسمانوں کو گردش سے اﷲتعالیٰ محفوظ رکھے کہ مومن کی مسجد (روئے زمین)دوسروں کے قبضے میں ہے۔اے پاکیزہ نفس انسان تجھے سخت جدوجہد کرنا چاہیے تاکہ تو اپنے آقاﷺ کی مسجد حاصل کر سکے۔ ایک مجاہدہ کو نذرانہ عقیدت علامہ اقبال جہاں درسِ خودی اور پیامِ بے خودی کو پیش کرتے ہیں، وہاں نوجوانوں کو شاہین بننے کی تلقین کرتے ہیں اور قوم کی بیٹیوں کو عرب لڑکی فاطمہ بنتِ عبداﷲکے کردار سے متعارف کراتے ہیں جو طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہو گئی: فاطمہ! تو آبروئے امت مرحوم ہے

ذرّہ ذرّہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے یہ سعادت حور صحرائی تری قسمت میں تھی

غازیانِ دیں کی سقائی تری قسمت تھی یہ جِہاد اﷲ کے رستے میں بے تیغ و سپر

ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی!

ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی! اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں

بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں عسکری مزاج کی پختگی کیسے؟

علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی نے اس جِہادی فکر اور عسکری مزاج کی پختگی کے لیے مردِ مومن کے تصور کو پیش کیا جو جذبہ عشق سے سرشار ہوکر مصارفِ زندگی میں پیکارِ زندگی کا مظاہرہ کرتا ہے، اس موضوع کی تفصیلات ایک الگ اور مستقل مقالے کا تقاضا کرتی ہیں۔ انھوں نے شاہین کے جس تصور کو پیش کیا وہ بھی ان کے عسکری افکار کی تشریح و توضیح میں لازم ہے۔ انھوں نے مردانِ مومن اور مردانِ حر کے سلسلے میں جن کرداروں کو اپنے کلام میں جگہ دی ہے، اس میں حضرت سیدنامولا علی رضی اللہ عنہ، حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدناخالد بن ولید رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدناابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ،حضرت سیدنا طارق بن زیادرحمہ اللہ تعالی ، حضرت سیدناسلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالی ،مجاہد اسلام حضرت سلطان محمود غزنوی رحمہ اللہ تعالی ، حضرت مولانااورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالی ،حضرت سلطان اسلام احمد شاہ ابدالی رحمہ اللہ تعالی، حضرت ٹیپو سلطان شہیدرحمہ اللہ تعالی ، حضرت فاطمہ بنتِ عبداﷲشہیدہ رحمہا اللہ تعالی اورحضرت شرف النساء رحمہااللہ تعالی کے اسماے گرامی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ معرکہ حیات میں کس قسم کے کرداروں سے محبت رکھتے ہیں۔ اقبال ضربِ کلیم کی ابتدا میں ناظرین سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریفِ سنگ یہ زورِ دست و ضربتِ کاری کا ہے مقام میدانِ جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ! خونِ دل و جگر سے ہے سرمایہ حیات فطرت لہو ترنگ، ہے غافل! نہ جل ترنگ

اقبال رحمہ اللہ تعالی پر کفارکے جہادی ہونے کے اعتراضات

علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی کے جہادی اور عسکری افکار کے سبب بعض اقبال شناس لبرل اور ناقدین نے ان پر قوت پرستی، جنگی جنون اور فاشسٹ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ بعض کم نگاہوں نے اقبال کے ہاں قوت اور طاقت کے الفاظ کو نیطشے کے سپرمین سے ماخوذ قرار دیا ہے۔ ایل ڈکنسن( (Lowes Dickensonنے بھی اسرارِ خودی پر جو مختلف اعتراضات کیے ہیں، ان میں ایک جنگ و قتال کے بارے میں ہے، وہ اقبال کے فلسفہ سخت کوشی اور پیکار کی دعوت کو منفی قرار دیتا ہے۔ ڈکنسن کے علاوہ کانٹ ویل سمتھ، نیلی نو، گب اور فاسٹر نے بھی علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی کی فکر پر جنگ جوئی کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اقبال مسلمانوں کو آدابِ حرب و ضرب سکھاتا ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجبور اور محکوم اور غلام اقوام بزم کے بجائے رزم کا میدان منتخب کریں گی اور طائوس و رباب کے بجائے شمشیر و سناں اختیار نہیں کریں گی تو دنیا سے استعماری قوتوں کے استبدادی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کون کرے گا؟ نیز محکوم اور غلام قومیں نوآبادیاتی نظام سے استخلاص اور چھٹکارا کیسے حاصل کریں گی؟ علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی قوت و طاقت کے مثبت اور منفی ہر دو پہلوئوں کو بخوبی سمجھتے تھے۔ یورپ اور عیسائیت میں چرچ اور اسٹیٹ کے مقاصد جدا جدا ہیں مگر اسلام میں اس نوعیت کی ثنویت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اقبال نے قوت و طاقت کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کو ضربِ کلیم کی ایک نظم قوت اور دین میں یوں پیش کیا ہے: اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں سو بار کوئی حضرت انساں کی قبا چاک تاریخِ امم کا یہ پیام ازلی ہے صاحبِ نظراں! نشہ قوت ہے خطرناک! اس سیلِ سبک و سیر و زمیں گیر کے آگے عقل و نظر و علم و ہنر میں خس و خاشاک لادین ہو تو ہے زہر ہلاہل سے بھی بڑھ کر ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاک اسلام جِہاد کو فتنے کی سرکوبی اور امنِ عالم کی بحالی کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اس سے مظلوم قوموں کو آزادی اور عزتِ نفس کے ساتھ جینے کا حق نصیب ہوتا ہے۔ وہ اسے معرکہ حق و باطل قرار دیتا ہے۔ اس کے جہادی مقاصد میں کہیں دہشت گردی اور انتہا پسندی نہیں۔ یہی باعث ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺکی حیاتِ طیبہ میں جو۸۲ جہادی معرکے ہوئے، ان میں کُل ۲۵۹ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے اور مخالف کے بھی صرف۷۵۹ افراد مارے گئے۔ آپﷺ نے ۶۵۶۴قیدیوں میں سے ۶۳۴۷ کو جنگوں کے فوراً بعد رہا کر دیا۔ کسی کی لاش کا مثلہ کیا اور نہ کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے۔ جنگی قوانین اور بعد از جنگ کے معاملات کے لیے مستقل ضوابط طے کیے۔ عادلانہ معاشروں کے قیام اور فتنوں کے استیصال کی یہی وہ کوششیں ہیں جن کی حمایت میں علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالی نے اپنے جِہادی اور عسکری افکار کو پیش کیا ہے۔ اسی باعث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جنگی معرکے محدثین نے کتاب المغازی میں لیکن قوانینِ صلح و جنگ کو کتاب السیر میں لکھا ہے۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh