Fatwa #1317
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,646
سوال (Question):
شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شافعی کی نماز عصر اور حنفی کی نماز ظہر ہو تو کیا شافعی کے پیچھے حنفی نماز پڑھ سکتا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان کرام اہلسنت۔ اس مسئلہ میں کہ حنفی حضرات اپنی نماز ظہر ادا کرنے مسجد میں گئے تو شافعی حضرات نماز عصر ادا کررہے تھے۔ تو حنفی حضرات شافعوں کے ساتھ اپنی نماز ظہر کی نیت کرکے۔ جماعتِ نماز عصر شافعی میں شامل ہوکر حنفی اپنی نماز ظہر، شافعی کی نماز عصر میں ادا کرنا کیسا؟ سائل محمد شاہد اشرف آمری میسور کرناٹک ۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب اقتداء کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے۔ امام اور مقتدی دونوں کی نماز ایک ہو یا امام کی نماز، نماز مقتدی کو متضمن ہو۔لہذا مقتدی نے جو اقتداء کی ہے وہ درست ہی ہے تو نماز نہیں ہوئی کیونکہ امام شافعی والے اپنی نماز عصر ادا کر رہا ہے اور حنفی والے ظہر دونوں کا ایک نہیں ہے اگرچہ وہ مسائل طہارت و نماز میں ہمارے فرائض مذہب کی رعایت کیا ہو یا معلوم ہو کہ اس نماز میں رعایت کی ہے یعنی اس کی طہارت ایسی نہ ہو کہ حنفیہ کے طور پر غیر طاہر کہا جائے۔ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے:واقتدائے قاضی عصر امروز بقاضی عصر دیرروز نارواست زیر اكہ اتحاد نماز شرط صحت اقتدا ست وہمچناں اقتدائے مفترض بمتنفل نیز کہ زنہار درست نباشدپس بدیں صورتہاذمہ از نماز فارغ نشود۔ باقی آج کی عصر قضا کرنے والے کی اقتداء میں کل کی عصر قضا کرنے والا نماز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ اقتداء کے لئے نماز کاایک ہونا شرط ہے اور اسی طرح فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کرنا ہر گز درست نہیں لہٰذا اس صورت میں نمازوں کا ذمہ ساقط نہیں ہوگا۔ فی نور الایضاح ” وشرحہ مراقی الفلاح شرط صحۃ الاقتداء ان لایکون الا مام مصلیا فرضا غیرفرض الماموم کظھر وعصر وظھر ین من یومین اھ ملخصا . نورالایضاح اور اس کی شرحہ مراقی الفلاح میں ہے اقتدا کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے فرائض الگ الگ نہ ہوں مثلاً ایک ظہر اور دوسرا عصر یا دونوں دو (۲) دنوں کی ظہر ادا کر رہے ہوں ( تو پھر اقتداء جائز نہ ہوگی ) تلخیصا ، وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ” لا مفترض بمتنفل ومفترض فرضا آخر کمصلی ظھر أمس بمصلی ظھر الیوم، لان اتحاد الصلوتین شرط انتھت ملخصۃ۔ تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ فرض ادا کرنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتدا نہیں کرسکتا اسی طرح ایک اور فرض پڑھنے والا ہے دوسرا دوسرے فرض والا ہے ان کا ایک دوسرے کی اقتداء کرنا بھی جائز نہیں مثلاً کل کی ظہر پڑھنے والے کی آج کی ظہر پڑھنے والا اقتدا کرے کیونکہ دونوں کی نمازوں کا ایک ہونا شرط ہے انتہت تلخیصاً۔۔ (ج۸ ص۱۵۶ تا۵۷ رضا فاؤنڈیشن لاہور) صورت مسئولہ میں ظہر کی نماز پھر پڑھے۔کیونکہ اقتداء درست ہی نہیں ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبـــــہ:محمد اشفاق عطاری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نیپال ۲ جمادی الآخر ۱۴۴۳ھ بروز بدھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9