Fatwa #1517
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,337
سوال (Question):
شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بڑی راتوں میں عبادت | شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟
الجواب: شبِ معراج شریف میں عبادت کرنا جائز ومستحسن ہے،اس میں عبادت کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے عار ف باللہ شیخ محقّق شیخ عبدُالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ حدیث نقل فرماتے ہیں :’’رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عبادت کرنے والے کیلئے سوسال کی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہےاور یہ رجب کی ستائیسویں رات ہے،جو اس رات بارہ رکعت نوافل اس طرح اد اکرے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھے اورسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ولَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرسو دفعہ پڑھے اور اللّٰہ تعالیٰ سے سو دفعہ استغفار کرے اور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم پر سو بار درود پڑھے اور اپنے لیے دنیا وآخرت میں سے جو چاہے مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو بے شک اللّٰہ تَعَالٰی اس کی سب دعاؤں کو قبول فرمائے گا،سوائے اس دعا کے جو گناہ کی ہو،اس روایت کو امام بیہقی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِنے ’’شعبُ الایمان‘‘ میں ابان سے اور انہوں نے حضرت سیّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔‘‘ [1]سوال: شبِ براءت کی فضیلت و اہمیت کیاہے؟
الجواب: اس کی فضیلت میں مُتعدَّ د احادیث مَروی ہیں حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو جاگا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت سے اللّٰہ تَعَالٰی آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور اعلان کرتاہے کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا تاکہ میں اس کوبخش دوں ، ہے کوئی رِزق طلب کرنے والا تاکہ میں اس کورِزق دوں ،ہے کوئی مصیبت زَدہ تاکہ میں اس کواس سے نجات دوں ۔یہ اعلان طلوعِ فجر تک ہوتا رہتا ہے۔[2] اسی طرح امُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تلاش میں نکلی میں نے حضو ر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنّتُ البقیع میں پایا، حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اللّٰہ تَعَالٰی نصف شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔[3]سوال: بڑی راتوں میں جمع ہوکر عبادت کرنا کیسا ہے ؟
الجواب: جائز ومستحسن ہے ۔ فتاویٰ رضویہ میں بحوالہ لَطائِفُ المعارِف ہے:’’اہلِ شام میں آئمہ تابعین مثل خالد بن مَعدان و امام مکحول و لقمان بن عامر وغیرہُم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِم) شبِ براءت کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوششِ عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اَخذ کیا ہے۔‘‘[4]سوال: ان راتوں میں مساجد کو سجانا کیسا ہے ؟
جواب:جائز ومستحسن ہے کیونکہ اس سے مقصود اس رات کی تعظیم ہوتا ہے اور بحوالہ لطائِفُ المعارف گزر چکا کہ ائمہ تابعین اس رات کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۱۷تا۱۱۹) [1] ۔۔۔۔ ما ثبت بالسنۃ، ص۱۵۰،شعب الإیمان، باب فى الصيام، تخصيص شهر رجب بالذكر، ۳ / ۳۷۴، حدیث:۳۸۱۲ [2] ۔۔۔۔ ابن ماجہ،کتاب اقامة الصلاة،باب ماجاء فی لیلة النصف من شعبان،۲ / ۱۶۰،حدیث:۱۳۸۸ [3] ۔۔۔۔ ترمذی،کتاب الصوم،باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان،۲ / ۱۸۳،حدیث: ۷۳۹ [4] ۔۔۔۔ فتاوی رضویہ،۷ / ۴۳۳) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9