Fatwa #792
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,053
سوال (Question):
شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے چندہ لینا کیسا ہے ؟
سوال : شرعی کام کے لئے غیر مسلموں سے پیسہ اکٹھا کیا جائے تو کیا وہ شرعی کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہے جیسے مسجد کی تعمیر؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ قرآن پاک میں صاف صاف فرما دیا گیا ہے” لکم دینکم ولی دین” تمہارے لئے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ۔ دنیاوی کام الگ ہیں اور دینی کام الگ، دین کے معاملے میں حکم یہ ہے کہ ہم ان سے کسی قسم کا چندہ نہ لیں۔ کہ دینی کاموں مثلا تعمیر مسجد اور تعمیر مدرسہ یا تبلیغی کاموں کے لئے ان سے چندہ لینا اور پیسہ مانگنا جائز نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دین میں کوئی جبر و دباؤ نہیں، اب اگر ہم ان سے چند مانگتے ہیں تو گویا ہم اپنے دین کے لئے ان پر زور اور دباؤ ڈال رہے ہیں اور یہ نامناسب بات ہے، لہذا ان کو ان کے دین میں میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور ہم اپنے دین میں آزاد ہیں تاکہ وہ نہ ہم سے چندہ مانگیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9