صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1720 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,347

سوال (Question):

شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شوہر اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہے ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک جگہ کروایا اور وداع نہیں ہوئی تھی یعنی لڑکی کو دولہاکے گھر نہیں بھیجا تھا اور اس کے چند دنوں کے بعد اس لڑکی کے والد نے اپنی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کروادیا۔ پہلے دولہا سے طلاق نہیں لی ۔ ایسے شخص کے گھر پر آنا جانا کھانا پینا سلام دعا کر سکتے ہیں یا کہ نہیں کر سکتے؟ اور دوسرے لڑکے کو یہ معلوم تھا کہ اس لڑکی کا نکاح ہوچکا ہے اس کے باوجود اس نے اس لڑکی سے نکاح کیا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں آپ کی مہربانی نوازش ہوگی۔ سائل: حافظ ابو طلحہ ضلع راجوری جموں کشمیر تحریک حق۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں اگر رخصتی سے قبل پہلے شوہر نے طلاق دے دی ہو تو یہ دوسرا نکاح صحیح ہے، جب کہ میاں بیوی میں تنہائی(خلوت) نہ ہوئی ہو، کیوں کہ اس صورت میں عدت واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر شوہرِ اول سے طلاق لیے بغیر دوسرا نکاح ہوا تو لڑکی کا باپ اور وہ لڑکی اور دوسرا نکاح کرنے والا (جب کہ اس کو نکاح اول کا علم ہو) یہ سب حد درجہ جفا کار گنہگار اور مستحق غضبِ پروردگار ہیں۔اللہ جل شانہ نے دوسروں کی بیویوں سے نکاح حرام کیا ہے، قرآن حکیم میں محرمات کے بیان میں ارشاد ہے : “والمحصنٰت من النساء” ( یعنی دوسروں کی بیویوں سے بھی نکاح حرام ہے۔سورہ نساء: آیت ٢۴ ) اس صورت میں اس دوسری شادی کرنے والے لڑکے اور لڑکی دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور لڑکی کے باپ پر بھی لازم ہے کہ حتی المقدور ان دونوں میں علاحدگی کرانے کی کوشش کرے۔ اگر یہ سب ایسا نہ کریں تو ضرور ضرور ان کے یہاں کھانا پینا،شادی غمی کی تقریبات میں شرکت کرنا، ابتدا بہ سلام کرنا بند کردیا جانا چاہیے۔ تاکہ سماجی دباو کے زیر اثر گناہ سے باز آئیں۔اللہ جل شانہ کا فرمان ہے: وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ۔ (سورہ انعام:آیت نمبر ٦٨) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اس آیت کریمہ سے متعلق افادہ میں تحریر فرماتے ہیں: یونہی ربوٰ خوار معلن بھی اسی آیہ کریمہ کے حکم میں داخل ہے، تفسیر احمد ی میں ہے:والقعود مع کلھم ممتنع۔ اس سے بھی قطع علاقہ چاہئے۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص۴٣٢) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١١/رمضان المبارک  ١۴۴٣ھ// ١٣/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh