صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1224 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,152

سوال (Question):

شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا

سوال : کیا فرمائے ھیں مفتیاں کرام مسلہ ذیل کے بارے میں شوھر اپنی بیوی کو مھر کا روپےادا کرتے وقت یہ بتایا نہیں کہ یہ مہر کا روپےہیں تو کیا مہر ادا ھوجاےگا برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام بسم اللہ الرحمن الرحیم، الجواب بعون الملک الوہاب صورت مسؤلہ میں، شوہر نے بیوی کو(مہر کی رقم سمجھکر) کچھ دیا خواہ نقد روپیہ، ہو،یا عیدی ہو ، اور دیتے وقت یہ نہ بتایا کیا یہ مہر کا روپیہ ہے،تو اب بھیجنے والی چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہر میں شمار نہیں ہو سکتی ہے ، یعنی مہر ادا نہیں ہوگا، جیسا کہ، بہار شریعت حصہ ہفتم میں،صدر الشریعہ بدرا لطریقہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان مسئلہ نمبر 55 میں میں تحریر فرماتے ہیں، شوہر نے عورت کے ہاں عیدی بھیجی پھر یہ کہتا ہے کہ وہ روپے مہر میں بھیجے تھے تو اسکا قول نہیں مانا جائے گا، (7)عالمگیری،بہار شریعت حصہ ہفتم، صفحہ نمبر 78 مہر کا بیان، وھکذا ولوبعث الی امراۃ شیٔاولم یذکر،جھۃ عند الدفاع غیر جھۃ المھر،کقولہ لشعمع اوحناء ثم قال انہ من المھر لم یقبل قینہ لوقوعہ ھدیٔہ فلا ینقلب مھرا فقالت ھو ای المبعوث ھدیۃ و قال ھو من المھر الخ ۔ ترجمہ، اگر شوہر نے اپنی بیوی کو کچھ بھیجا خواہ نقد خواہ جنس اور دیتے وقت کوئی ایسی بات نہیں ذکر کی جو مہر کے مغائر ہے،یعنی نہ یہ کہا کہ یہ مہر ہے اور نا یہ بتایا یا کہ مہر کے علاوہ کچھ اور ہے،جیسے یہ کہا ہوتا کہ اسے شمع یا مہدی میں خرچ کرو ،پھر شوہر نے بعد میں صراحت کر کے کہا کہ وہ مہر میں بھیجا تھا تو اس کا یہ قول قابل اعتبار نہیں ہوگا،اس لیے کی وہ چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہرمیں شمار نہیں ہو سکتی ہے، درمختار مترجم،کتاب النکاح،باب ا لمہر، جلد دوم،صفحہ نمبر ٤٥٤/٤٥٥, حاصل کلام سائل کا جواب، شوہر،کا اپنی بیوی کو مہر کا روپیہ ادا کرتے وقت یہ نہ بتانا کہ یہ مہر کا روپیہ ہے،تو ایسی صورت میں مہر ادا نہیں ہوگا، واللہ تعالی اعلم بالصواب، کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دار العلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh