صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1648 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,760

سوال (Question):

شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے

کسی کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت اپنی چوڑیاں توڑ سکتی ہے یا نہیں؟ المستفتیہ اقرا بانو کریلی الہ آباد یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں عورت کو اپنی چوڑیاں توڑنے کی اجازت نہیں کہ یہ تضیع مال ہے اور تضیع مال حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ” لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ۔ ( سورۃ بنی اسرائیل١٧: ٢٦/٢٧ ) ترجمہ: ” اور فضول نہ اڑا ،بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے”۔ (کنزالایمان) حدیث پاک میں ہے: ” إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ “. ( صحیح البخاری رقم الحدیث ١٤٧٧ ، کتاب الزکاۃ ، باب قول اللہ تعالی لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا(١)فضول باتیں کرنا(٢)مال ضائع کرنا(٣)بہت زیادہ سوال کرنا۔ ہاں چوڑیاں نکال دے کہ سوگ کے سبب اسے چوڑیاں پہننا منع ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سوگ کے سبب ممنوعہ چیزوں کو شمار کراتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “چوڑیاں اگرچہ کانچ کی ، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔” اھ( فتاویٰ رضویہ شریف ج١٣ ، ص٣٣١، کتاب الطلاق ، باب الحداد ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh