صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #772 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟/ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,880

سوال (Question):

شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟/ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــ اس بارے میں اجمالی حکم یہ ہے کہ شئر بازار میں حصہ لینا اور اس میں روپے جمع کرنا ناجائز و گناہ ہے ۔ اس میں کچھ صورتیں جائز ہیں اور وہ ایکویٹی شئر ہیں، جنہیں اردو زبان میں مساواتی حصص کہا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ ناجائز و سودی کا کاروبار یعنی ”پریفرنس شئرز ” یاترجیحی حصص کو اس طرح لازم کر دیا گیا ہے کہ ”پریفرنس شئرز ”کا سود ادا کیے بغیر ”ایکویٹی شئرز ” کا نفع تقسیم ہی نہیں ہوتا ، اور سب کو شئر کی سودکاری میں لازما ملوث ہونا پڑتا ہے ۔ اس لیے شئر بازار میں حصہ لینا نا جائز و گناہ ہے ۔  لہذا شیر بازار سے مسلمان بچیں ۔ یہ ہندوستان میں شئربازار کا قانون ہے اور جس ملک میں اس کے یہ قانون جاری ہوں وہاں بھی یہی حکم ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh